تعلیم سے دہشتگردی کی بھینٹ — شاری بلوچ کی المناک داستان
تعلیم انسان کی شخصیت سنوارنے اور معاشرے کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ لیکن جب تعلیم یافتہ اذہان دہشتگردی کے چنگل میں پھنس جائیں، تو یہ نہ صرف ایک فرد، بلکہ پورے معاشرے کا نقصان بن جاتا ہے۔ شاری بلوچ کی کہانی اسی تلخ حقیقت کا ایک دردناک نمونہ ہے۔ شاری بلوچ ایک تعلیم یافتہ، خوشحال اور باشعور گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی زندگی میں نہ کوئی معاشی تنگی تھی، نہ ریاستی جبر کا کوئی تجربہ۔ وہ ایک ذہین اور باصلاحیت طالبہ تھی، جس کا خواب تھا کہ وہ تعلیم کے شعبے میں اپنا مقام بنائے اور استاد بن کر معاشرے کی خدمت کرے۔ شاری کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں عزت، مواقع اور تحفظ اسے میسر تھے — وہ ہر لحاظ سے ایک کامیاب مستقبل کی حامل نظر آتی تھی۔ مگر بدقسمتی سے، دہشتگردی کے ناپاک عزائم شاری کے خوابوں کے بیچ میں آ گئے۔ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) سے تعلق رکھنے والا ایک شدت پسند، جو خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتا تھا، شاری کی زندگی میں داخل ہوا۔ اس نے محبت، امیدوں اور جھوٹے وعدوں کا جال بچھایا، شاری کو اپنی طرف مائل کیا، شادی کی آڑ میں اسے کراچی کے ایک فلیٹ میں لے جا کر قید کر دیا۔ اس قید میں، شاری کا بدت...