Posts

Showing posts from April, 2025

تعلیم سے دہشتگردی کی بھینٹ — شاری بلوچ کی المناک داستان

Image
تعلیم انسان کی شخصیت سنوارنے اور معاشرے کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہوتی ہے۔ لیکن جب تعلیم یافتہ اذہان دہشتگردی کے چنگل میں پھنس جائیں، تو یہ نہ صرف ایک فرد، بلکہ پورے معاشرے کا نقصان بن جاتا ہے۔ شاری بلوچ کی کہانی اسی تلخ حقیقت کا ایک دردناک نمونہ ہے۔ شاری بلوچ ایک تعلیم یافتہ، خوشحال اور باشعور گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ اس کی زندگی میں نہ کوئی معاشی تنگی تھی، نہ ریاستی جبر کا کوئی تجربہ۔ وہ ایک ذہین اور باصلاحیت طالبہ تھی، جس کا خواب تھا کہ وہ تعلیم کے شعبے میں اپنا مقام بنائے اور استاد بن کر معاشرے کی خدمت کرے۔ شاری کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی جہاں عزت، مواقع اور تحفظ اسے میسر تھے — وہ ہر لحاظ سے ایک کامیاب مستقبل کی حامل نظر آتی تھی۔ مگر بدقسمتی سے، دہشتگردی کے ناپاک عزائم شاری کے خوابوں کے بیچ میں آ گئے۔ بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) سے تعلق رکھنے والا ایک شدت پسند، جو خود کو ڈاکٹر ظاہر کرتا تھا، شاری کی زندگی میں داخل ہوا۔ اس نے محبت، امیدوں اور جھوٹے وعدوں کا جال بچھایا، شاری کو اپنی طرف مائل کیا، شادی کی آڑ میں اسے کراچی کے ایک فلیٹ میں لے جا کر قید کر دیا۔ اس قید میں، شاری کا بدت...

خفیہ جنگ کا پردہ فاش: کوڈ نام آریہ-13B کی کہانی

Image
کوڈ نام: آریہ-13B — اشوک چتر ویدی کی گرفتاری کی اندرونی کہانی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا ایک سینئر ایجنٹ، اشوک چتر ویدی، کوڈ نام ’’آریہ-13B‘‘، ایران سے آپریٹ کر رہا تھا جب وہ پاک-ایران سرحد کے قریب پاکستانی کاؤنٹر انٹیلیجنس کے ہتھے چڑھ گیا۔ ’’را‘‘ میں اُس کا تعارف ایک ’’فیلڈ کوآرڈی نیٹر‘‘ کے طور پر کیا جاتا تھا، مگر اصل میں وہ ’’ویسٹ ایشیا ڈیسک‘‘ پر تعینات ایک سینئر ایسٹ ہینڈلر تھا۔ تہران میں اُس نے ’’کرافٹس آف سلک روٹ‘‘ کے نام سے ایک درآمدی کمپنی قائم کر رکھی تھی؛ ظاہر میں یہ کمپنی بلوچ زیورات، ایرانی قالین اور زعفران کی تجارت کرتی تھی، مگر درپردہ یہ دفتر دہشت گرد گروہوں کو لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کا مرکز تھا۔ یہی جگہ بی ایل اے کے چھاپہ ماروں کو SAT فونز، نائٹ ویژن گوگلز اور M-16 A4 رائفلز کی ترسیل کا خفیہ گودام بنی ہوئی تھی۔ سال 2023 کے اواخر میں نئی دہلی کے ’’ڈیجیٹل وارفیئر سیل‘‘ سے اشوک کو ایک نیا مشن سونپا گیا: بلوچ ڈیجیٹل اسپیس میں اینٹی پاکستان بیانیے کا سیلاب لانا۔ 500 سے زائد جعلی ’’ایکس‘‘، فیس بک اور ٹیلیگرام اکاؤنٹس بنائے گئے؛ ہر اکاؤنٹ ایک الگ بلوچ نام، ایک مختلف المیہ، ل...

بی وائی سی! بی ایل اے کا سیاسی ونگ

Image
  بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی)خود کو بلوچ عوام کے حقوق کی ایک نمائندہ تنظیم ظاہر کرتی ہے مگردر حقیقت میں یہ دشمن ممالک کے ایجنٹوں کاایک مسلح جتھہ اور کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی(بی ایل اے) کا سیاسی ونگ اور(Non Register Organisation) ہے۔جس کااصل مقصد عسکریت اور تشدد پسند تنظیموں کے جرائم پر پردہ ڈالنا اور دہشت گردوں کو ”لاپتہ افراد“بناکر ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈا کرنا اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک دہشت گرداور خصوصاًبلوچوں کے لیے ایک غیر محفوظ ریاست ثابت کرنا ہے۔ ان مذموم مقاصد کے لیے ملک دشمن قوتوں نے ماہ رنگ لانگوکا انتخاب کیا،کیونکہ وہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے اہم کمانڈر اور بدنام زمانہ دہشت گرد عبدالغفار لانگو کی بیٹی ہے۔چونکہ ماہ رنگ نے پہلے ہی غداری کے نظریات میں پرورش پائی،اس لیے اسے زیادہ تربیت دینے کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ملک دشمنی،ذاتی مفادات اور بلوچ عوام کے استحصال کی سوچ اس کے خون میں شامل ہے۔جس نے اپنے مفادات کے لیے بیرونی آقاؤں کی ایماء پر سیکڑوں ماؤں سے ان کے طلعت عزیز جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹوں کوبرین واشنگ کے ذریعے گمراہ کرکے د...

بلوچستان کی بیٹی زنیرا قیوم بمقابلہ ماہرنگ بلوچ

Image
  بلوچستان کے لیے اس سے زیادہ قابل فخر بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انٹرنیشنل چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسف)کی طرف سے بلوچستان کی 14 سالہ بیٹی زنیرا قیوم کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایکشن، لڑکیوں کو بااختیار بنانے، معیشت میں انکے کردار اور ان کے حقوق کے لیے ایڈووکیٹ مقرر کردیا ہے۔ 14 سالہ زنیرا کے برعکس اگر ہم ماہرنگ بلوچ کے بلوچستان میں کردار کو دیکھیں جو ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے اس نے بلوچستان میں عوام کے صحت سے جڑے مسائل کو پس پشت ڈالتے ہوئے پاکستان کو توڑنے کے لیے سرگرم عناصر کا آلہ کار بننے کو ترجیح دی اور پاک فوج کو بدنام کرنے کے لیے باقاعدہ منظم مہم کا آغاز کردیا-جون سے لے کر اکتوبر تک تسلسل کے ساتھ بارشوں اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی تباہی کے دوران صرف پاک فوج تھی یا جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن۔ اس وقت بلوچستان کے وہ تمام قوم پرست لیڈر کہاں تھے؟ یہی وہ حالات تھے جس کے زیر اثر کم سن زنیرا نے جو اس وقت صرف بارہ سال کی تھی موسمیاتی تبدیلیوں کو سمجھا اور آئندہ کے لیے اپنے صوبے کے بچوں کوموسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے اور بچوں کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ رکھنے جیسے...