Posts

Showing posts from May, 2025

Chaghi: Where Mountains Echo Power and Pride

Image
  Chaghi stands tall, like mountains proud, Its legacy speaks strong and loud! A witness carved in timeless stone, Now part of history, fully grown. Not every land can choose its fate,  Some learn of war at sorrow’s gate! Their skies are torn, their voices lost,  They pay in blood, they bear the cost. Where power speaks, the world stands still,  Where power’s absent, drops the kill! Respect is not in words we say, It’s earned when threats are kept at bay. The atom slept in Chaghi’s core, Not to destroy, but to make it Proud! For silence, peace, and self-respect, You need the strength the world accepts!

Anti-State Narrative or Local Dispute? The Truth Behind the Awaran Incident

 Date: May 27, 2025 Certain media outlets and social media platforms are circulating misleading and baseless claims regarding the unfortunate incident that occurred last night in the Malar Machhi area of Awaran, falsely implicating security forces in the matter. The relevant authorities have categorically denied all such allegations. The truth is that the incident was the result of a clash between two rival local groups due to a personal dispute, in which two individuals — Ahmed Ali and Hoorak — lost their lives, and one elderly woman was injured. The security forces or any government institution had no direct or indirect involvement in the incident. Leveling accusations against any institution without evidence is a criminal offense under the law. Immediately after the incident, the Levies Force arrived at the scene, assessed the situation, registered an FIR, and initiated an investigation. The process of identifying and arresting the culprits is ongoing in accordance with legal pr...

ریاست مخالف بیانیہ یا مقامی جھگڑا؟ آواران سانحے کی حقیقت

تاریخ: 27 مئی 2025 گزشتہ شب آواران کے علاقے مالار مچھی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے متعلق بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور بے بنیاد دعوے گردش کر رہے ہیں، جن میں سیکیورٹی فورسز کو اس سانحے سے منسلک کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ واقعہ دو مقامی مخالف گروپوں کے درمیان باہمی مسئلے کے باعث جھڑپ کا نتیجہ تھا، جس میں دو افراد جاں بحق (احمد علی اور حورک)  اور ایک خاتون زخمی ہوئیں۔ سیکیورٹی فورسز یا کسی سرکاری ادارے کا اس واقعے سے براہِ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں۔ اور بغیر ثبوت کسی ادارے کو مورود الزام ٹھرانا قانونی طور پر جرم ہے۔ واقعے کے فوری بعد لیویز فورس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا، ایف آئی آر درج کی اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ قانون کے مطابق ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔ مزید برآں، سیکیورٹی اداروں نے زخمی بزرگ خاتون کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ضلعی اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ مقامی افراد نے اس امدادی اقدام کو سراہا اور اظہارِ تشکر کیا۔ متعلقہ ...

عبدالطیف کی ھلاکت: کیا افسانہ، کیا حقیقت

Image
کل سے عبدالطیف، جو بی ایس او آزاد اور مشکے پریس کلب کا صدر تھے، کی ھلاکت متضاد کھانیوں کی زد میں ہے۔ سب سے پہلے کچھ مخصوص صحافی اور بی وائ سی  جیسے پاکستان مخالف حلقے ہیں، جو عادتاً، بلا تحقیق اور  بلا ثبوت اس واقع میں کوئ حکومتی کاروائ کا پرچار کر رہے ہیں۔ یوں اس افسانہ کے پس پردہ ان حلقوں کی  معلومات سے زیادہ انکی عادت کی مجبوری یا تعصب یا پھر معاشی مفاد کار فرما نظر آتی ہے۔  دوسری طرف مقامی عسکریت پسند گروہ ہیں- ان کے اندر کی چہ مگوئ میں مختلف سازش کے افسانہ اور کچھ سراسیمگی نظر آ رہی ہے- جس کی بڑی وجہ لالہ لطیف کا پچھلے کچھ ٹائم سے ایف سی اور فوجیوں کے ساتھ تعلقات وغیرہ ہے-  کچھ گروپ میں خبر گرم ہے کہ بشیر زیب بہت زیادہ غصے میں تھا-  اک اور قصہ جو گردش میں ہے وہ لالہ کا زیادہ جھکاؤ بی آل اے کی طرف ہونا تھا جو ڈاکٹر کے شک بنا-  بہرحال، ھمارے تحقیق میں سب سے زیادہ اہم مقامی زرائع ہیں، جس کی مختصر خلاصہ پیش خدمت ہے-      عبدالطیف کا سفر اس کی دور طالبعلمی سے شروع ہوا۔اس زمانہ میں وہ اپنی تشدد پسند، باغیانہ اور چالاک طبیعت کی وجہ سے "ب...

لالا لطیف — صحافت کی آڑ میں تخریب کاری کا علمبردار

Image
  بلوچستان کی موجودہ صورتحال میں جہاں ایک طرف ریاست ترقی، امن، اور تعلیم کی راہ پر گامزن ہے، وہیں کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو اس روشنی کو نفرت، گمراہی، اور انتقام کی تاریکی میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عبدالطیف بلوچ عرف لالا لطیف کا شمار بھی ایسے ہی افراد میں ہوتا ہے، جو بظاہر ایک “انسان دوست صحافی” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ایک انتہا پسند بیانیے کا سرگرم پرچارک اور کالعدم دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کا نظریاتی سہولت کار تھا۔ لالا لطیف کو صحافت کا لبادہ اوڑھا کر اسے مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اس کی تحریروں اور تقاریر کا تجزیہ واضح کرتا ہے کہ وہ ریاستِ پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم چلا رہا تھا۔ اس کے کالمز میں بی ایل اے کی دہشتگردانہ کارروائیوں کی پردہ پوشی، ریاستی اقدامات کی مذمت، اور نوجوانوں کو ریاست سے متنفر کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ اس نے بلوچستان کے مظلوم عوام کے جذبات کو استعمال کر کے دہشتگردی کو “مزاحمت” کا نام دیا، جو کہ صحافتی اصولوں اور انسانی اخلاقیات دونوں کے خلاف ہے۔ لالا لطیف کا بیانیہ، اندازِ تحریر، اور زبان وہی تھی جو بھارت،...

پاکستانی فوجی آپریشن نے بھارتی فضائیہ کی کمزوریاں بے نقاب کر دیں: فرانسیسی اخبار نے رافیل طیاروں کے نقصان کی تصدیق کر دی

Image
  پاکستان کے حالیہ فوجی ردعمل نے نہ صرف بھارتی جارحانہ آپریشن "سندور" کو ناکام بنایا بلکہ بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں پر سنگین سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ معروف فرانسیسی اخبار Le Monde (لو موند) کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق بھارت کو اس کارروائی کے دوران کم از کم تین جنگی طیاروں کا نقصان اٹھانا پڑا، جن میں جدید ترین رافیل طیارے بھی شامل ہیں۔ یہ جھڑپ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب اس وقت ہوئی جب بھارت نے کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے حملے کے جواب میں پاکستان کے مختلف مقامات پر بمباری کی۔ تاہم، اس کارروائی سے مطلوبہ فوجی برتری حاصل کرنے کے بجائے بھارت کو شدید جانی اور دفاعی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ Le Monde کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ نے پاکستانی سرزمین پر کئی اہداف کو نشانہ بنایا، مگر اس کے بدلے میں کم از کم تین بھارتی جنگی طیارے تباہ ہوئے۔ ان میں ایک رافیل طیارہ شامل ہونا اس طیارے کی تاریخ میں پہلا تصدیق شدہ جنگی نقصان ہے۔ پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے مطابق، پاکستان نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے جن میں تین رافیل، ایک میگ-29، اور ایک سخوئی SU-3...

دہشت گردوں کی منگوچر میں امن سبوتاژ کرنے کی کوشش ناکام، ایف سی بلوچستان کی بروقت کارروائی، دو دہشت گرد ہلاک، علاقہ گھیرے میں لے لیا گیا

Image
  منگوچر، قلات — ۲ مئی ۲۰۲۵ منگوچر، ضلع قلات میں آج دہشت گردوں نے ایک بار پھر مقامی آبادی کو خوف و ہراس کا نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم فرنٹیئر کور (ایف سی) بلوچستان کی مستعدی، پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت ردعمل کے باعث ان کے ناپاک عزائم خاک میں ملا دیے گئے۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کا ایک گروہ آبادی کے قریب نمودار ہوا اور جان بوجھ کر مقامی شہریوں کو ڈرا دھمکا کر علاقے کا امن سبوتاژ کرنے کی کوشش کی۔ اطلاع ملتے ہی ایف سی بلوچستان کے اہلکار فوری طور پر حرکت میں آئے اور جائے وقوعہ پر پہنچ گئے، جس کے باعث دہشت گردوں کو پسپا ہونا پڑا۔ فرار کے دوران دہشت گرد اپنے چار ساتھیوں کی لاشیں موقع پر چھوڑ کر بھاگ نکلے۔ ایف سی نے علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کا آغاز کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں مزید ہلاکتوں اور ممکنہ گرفتاریاں متوقع ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کی گرفتاری یا خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا۔ دوسری جانب منگوچر کے عوام نے اس واقعے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے اور دہشت گردوں کی جانب سے معمولاتِ زندگی کو متاثر کرنے کی کوششوں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔ شہریوں نے ایف سی...