بلوچستان کی بیٹی زنیرا قیوم بمقابلہ ماہرنگ بلوچ




 بلوچستان کے لیے اس سے زیادہ قابل فخر بات اور کیا ہوسکتی ہے کہ انٹرنیشنل چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسف)کی طرف سے بلوچستان کی 14 سالہ بیٹی زنیرا قیوم کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے خلاف ایکشن، لڑکیوں کو بااختیار بنانے، معیشت میں انکے کردار اور ان کے حقوق کے لیے ایڈووکیٹ مقرر کردیا ہے۔ 14 سالہ زنیرا کے برعکس اگر ہم ماہرنگ بلوچ کے بلوچستان میں کردار کو دیکھیں جو ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے اس نے بلوچستان میں عوام کے صحت سے جڑے مسائل کو پس پشت ڈالتے ہوئے پاکستان کو توڑنے کے لیے سرگرم عناصر کا آلہ کار بننے کو ترجیح دی اور پاک فوج کو بدنام کرنے کے لیے باقاعدہ منظم مہم کا آغاز کردیا-جون سے لے کر اکتوبر تک تسلسل کے ساتھ بارشوں اور اس کے نتیجے میں پھیلنے والی تباہی کے دوران صرف پاک فوج تھی یا جماعت اسلامی کی الخدمت فاؤنڈیشن۔ اس وقت بلوچستان کے وہ تمام قوم پرست لیڈر کہاں تھے؟ یہی وہ حالات تھے جس کے زیر اثر کم سن زنیرا نے جو اس وقت صرف بارہ سال کی تھی موسمیاتی تبدیلیوں کو سمجھا اور آئندہ کے لیے اپنے صوبے کے بچوں کوموسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانے کے لیے اور بچوں کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ رکھنے جیسے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کاعزم لے کر وہ بچی میدان عمل میں نکلی -

Comments

Popular posts from this blog

بلوچستان میں بدامنی اور ریاست کا غیر متزلزل عزم

دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ نہیں: تحصیل زہری میں آپریشن کی حقیقت

No Safe Haven for Terror: The Truth Behind the Operation at Zehri