Posts

Showing posts from July, 2025

کیا افسانے - کیا حقیقت!

Image
  کیا پاکستان، بلوچستان کو کھا رہا ہے یا کِھلا رھا ہے؟ تحریر: شاہد خان بلوچستان سے متعلق کئی افسانے سننے کو ملتے ہیں کہ پاکستان، بلوچستان کے وسائل لوٹ رہا ہے اور بدلے میں کچھ نہیں دیتا۔ آئیے زمینی حقائق کی بنیاد پر جائزہ لیتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے:   1. گیس پاکستان میں گیس کی پہلی دریافت بلوچستان میں ہوئی۔ 1995ء میں بلوچستان پاکستان کی گیس ضرورت کا 56٪ پیدا کر رہا تھا، لیکن آج کی صورتحال مختلف ہے۔ فی الوقت پاکستان کی روزانہ گیس کی ضرورت 4000 ملین کیوبک فٹ سے زائد ہے جبکہ بلوچستان اس میں سے صرف 359 ملین کیوبک فٹ، یعنی 9٪ گیس فراہم کرتا ہے۔ اس کا 6٪ بلوچستان خود استعمال کرتا ہے اور صرف 3٪ باقی ملک کو جاتا ہے۔ باقی 91٪ گیس دیگر صوبے پیدا کرتے ہیں یا درآمد کی جاتی ہے۔   2. تیل پاکستان روزانہ ساڑھے پانچ لاکھ بیرل تیل استعمال کرتا ہے، جس میں سے صرف 80 تا 90 ہزار بیرل مقامی پیداوار ہے — اور وہ بھی بلوچستان سے نہیں۔ بلوچستان میں تیل کی پیداوار صفر ہے۔ بقیہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ بیرل بیرونِ ملک سے خرید کر لایا جاتا ہے، جس میں بلوچستان کی ضروریات بھی شامل...

بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی آخری کوشش، دشمن کی چال ناکام ہو چکی ہے!

 بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی آخری کوشش، دشمن کی چال ناکام ہو چکی ہے! بلوچستان ایک بار پھر دشمن کے زہریلے پروپیگنڈے کا نشانہ بن رہا ہے۔ فتنہ الہندستان اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے، اور اس کی مایوسی اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ وہ اب بلوچ نوجوانوں کے خون پر سیاست کر رہا ہے۔ یہ بزدل دشمن خود قتل کرتا ہے، اور الزام ریاست پر لگاتا ہے۔ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے لیے جذباتی نعرے گھڑتا ہے، جھوٹے وعدے کرتا ہے اور جعلی بیانیے پھیلاتا ہے، تاکہ معصوم لاشوں سے اپنی بدنما سیاست کو سہارا دے سکے۔ لیکن اب بلوچ عوام سمجھ چکے ہیں کہ اصل دشمن کون ہے۔ بلوچ نوجوانوں کے اصل قاتل وہ ہیں جو تعلیم کے دشمن ہیں، جو اسکول بسوں کو بموں سے اڑاتے ہیں، ہسپتالوں، سڑکوں اور عوامی ترقی کے منصوبوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ یہ وہ گروہ ہیں جو بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان لبریشن فرنٹ جیسے ناموں کے تحت دشمن کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا مقصد بلوچ نوجوان کو تعلیم، شعور اور ترقی سے محروم رکھنا ہے، تاکہ وہ ہمیشہ بارود اور نفرت کی سیاست کا ایندھن بنے رہیں۔ یہ گروہ نوجوانوں کو قلم کی بجائے بندوق تھمانا چاہتے ہیں، تاکہ وہ کبھی ...

بلوچستان میں دہشتگردی: ریاست، امن اور ترقی کے خلاف ایک منظم جنگ

بلوچستان، پاکستان کا قدرتی وسائل سے مالا مال اور مرکزی حیثیت رکھنے والا صوبہ، ایک بار پھر دہشتگردی کی ہولناک لہ ک نشانہ بنا ہے۔ یکم جولائی 2025 کو مستونگ میں ہونے والا حملہ محض ایک پرتشدد واقعہ نہیں بلکہ ایک گہری اور منظم سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کے داخلی امن کو نقصان پہنچانا، ریاستی اداروں کی ساکھ کو مجروح کرنا اور عوام میں خوف کی فضا پیدا کرنا ہے۔ اس بزدلانہ کارروائی میں فتنہ آلہندوستان کے پیروکاروں نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک سولہ سالہ معصوم بچہ شہید ہو گیا جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں دیگر بچے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عوام کو خوفزدہ کرنا اور ریاست سے دور کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔ دہشتگردوں نے نہ صرف انسانی جانوں کو نشانہ بنایا بلکہ عوامی ڈھانچے پر بھی بھرپور حملہ کیا۔ تحصیل دفتر، سرکاری گاڑیاں اور تین مقامی مالیاتی ادارے ان کی دہشتگردی کی لپیٹ میں آئے، جس سے نہ صرف بد نظمی پھیلی بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ یہ سب کچھ درحقیقت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا، تاکہ ریاستی خدما...

بلوچستان کا سچ اور خاموش چہروں کی بےنقاب حقیقت

بلوچستان، جو پاکستان کی روح اور پہچان ہے، ایک بار پھر دہشتگردی، شرپسندی اور بیرونی سازشوں کی زد میں رہا۔ جب سرزمینِ بلوچستان میں دھماکے ہو رہے تھے، معصوم بچوں کا خون بہایا جا رہا تھا، بینک، اسکول اور بازار خاکستر کیے جا رہے تھے  اُس وقت ایک عجیب اور تکلیف دہ خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ یہ خاموشی معمولی نہیں تھی، بلکہ مجرمانہ تھی۔ وہی چہرے، جو خود کو "سمی دین بلوچ"، انسانی حقوق کے علمبردار اور بلوچ قوم کے ہمدرد کہتے ہیں، اُس وقت مکمل خاموش تھے۔ نہ کوئی مذمتی بیان آیا، نہ کوئی ریلی نکلی، اور نہ ہی سوشل میڈیا پر ایک لفظ لکھا گیا۔ ان کی یہ خاموشی دراصل ایک کھلی گواہی بن گئی,گواہی اس بات کی کہ یہ لوگ اس ظلم و بربریت کے خلاف نہیں، بلکہ اس کا حصہ ہیں۔ یہ خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کے مفادات اور ہمدردیاں پاکستان دشمن قوتوں سے جُڑے ہوئے ہیں۔ ان کی سوچ اور بیانیہ اُس نیٹ ورک کی پرورش کا نتیجہ ہے جو "فتنہ الہندستان" کے زیرِاثر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ وہی عناصر ہیں جو بلوچ قوم کے نام پر بیرونی ایجنڈے کو بیچتے ہیں، اور جب بلوچ بچے شہید کیے جاتے ...