Posts

Showing posts from June, 2025

پاکستان: لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی خوددار ریاست

Image
 سوشل میڈیا پر روگردانی کرتے ہوئے ایک ایسی تحریر نظروں سے گزری جس میں پاکستان کے وجود کو مشکوک، اور اسے بیرونی طاقتوں کا آلہ کار قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ یہ سب پڑھ کر دل کو ٹھیس پہنچی اور میں خاموش نہ رہ سکا۔ایسے میں خاموش رہنا محض لاتعلقی نہیں بلکہ قومی مفاد سے روگردانی کے مترادف تھا۔ پاکستان کسی سیاسی سازش کا نتیجہ نہیں، بلکہ یہ امتِ مسلمہ کی طویل قربانیوں، دعاؤں اور جدوجہد کا ثمر ہے۔ یہ مملکت خداداد اُس وقت قائم ہوئی جب لاکھوں مسلمانوں نے “لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کے نعرے پر لبیک کہا اور اپنی جان، مال، عزت اور گھر بار قربان کیے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ، علامہ اقبالؒ اور دیگر رہنما صرف سیاسی لیڈر نہیں، بلکہ اسلامیانِ ہند کے نمائندہ تھے، جنہوں نے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جہاں مسلمان آزادی سے اپنے دین پر عمل کر سکیں۔ جہاں پاکستان کا قیام لاکھوں مسلمانوں کی قربانی، ہجرت، اور "لا الٰہ الا اللہ" کے نعرے کی بنیاد پر ہوا، وہیں اسرائیل ایک زبردستی مسلط کی گئی ناجائز ریاست ہے، جو فلسطین کی زمین پر قابض ہو کر ظلم و ستم کی بدترین مثال بن چکی ہے۔ اسرائیل کا قیام کسی الہامی...

ریاستی سالمیت، آئین کی بالادستی اور بیرونی پروپیگنڈے کا چہرہ

Image
 معمول کی گردانی کے دوران فیس بک پر اچانک ایک پوسٹ نظروں سے گزری، جس میں  بلوچ یکجہتی کمیٹی کی حمایت کی گئی تھی۔ اس تحریر میں ایمان مزاری کو نہ صرف بی وائی سی کی قیادت کی وکیل بلکہ ان کی آواز قرار دے کر پیش کیا گیا تھا۔ پوسٹ میں ریاستی اداروں پر کھلے عام الزامات عائد کیے گئے، اور ریاستی بیانیے کو جھٹلانے کی شعوری کوشش کی گئی۔ ایسے میں خاموش رہنا محض لاتعلقی نہیں بلکہ قومی مفاد سے روگردانی کے مترادف تھا۔پاکستان ایک خودمختار، آئینی ریاست ہے جو قانون، سیکیورٹی، اور اجتماعی مفاد کو مقدم رکھتی ہے۔ ہر شہری کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، لیکن جب یہ اظہار ریاستی اداروں، قومی سلامتی یا پاکستان کی خودمختاری کے خلاف استعمال ہونے لگے تو یہ آزادی نہیں، بلکہ بدنیتی کہلاتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ایک مخصوص بیانیہ، نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی، بڑے منظم انداز میں پھیلایا جا رہا ہے — ایک ایسا بیانیہ جو ریاست کو مجرم اور دشمن عناصر کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ بیانیہ محض تنقید نہیں بلکہ منظم فتنہ ہے — فتنہ الہندستان۔ اس فتنہ کا چہرہ چند مخصوص افراد ہیں، جن میں ماہ رنگ بلوچ نم...

بلوچ آزادی کی تحریک۔ اقتدار کی نہیں، گمراہ کن سوچ کی جنگ۔

 بلوچستان کی تاریخ قربانی اور غیرت سے بھری ہوئی ہے، مگر اسے صرف ہتھیار اور شورش کا میدان سمجھ لینا زیادتی ہے۔ حق، آزادی اور خود ارادیت کے نام پر اپنی ہی قوم کو خوف، غربت اور پسماندگی کی طرف دھکیلنا ظلم ہے۔ بلوچستان کی آزادی کی تحریک ایک جذباتی اور پیچیدہ موضوع ہے، جسے کبھی کبھار صرف نعرے بازی اور جذباتی اُبھار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ایک سچی تحریک میں شعور، حکمت، تدبر اور قوم کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ آزادی کا مقصد  آزادی کے نعرے لگانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ  قوم کی ترقی، فلاح اور خوشحالی کی راہ  ہموار کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے ۔ جب تحریکوں میں صرف جذباتیت اور اشتعال انگیزی کا عنصر شامل ہو، تو وہ نہ صرف قوم کو گمراہ کرتی ہیں بلکہ اس کی اصل منزل کو بھی متنازعہ بنا دیتی ہیں۔ ان تحریکوں کا فائدہ صرف وہ لوگ اُٹھاتے ہیں جو ذاتی مفاد یا بیرونی ایجنڈے کے تحت عوامی جذبات کو استعمال کرتے ہیں۔                                            ...

فریب کا داعی اور دہشتگردی کا قائد: ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ!

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ، جو خود ایک مطلوب دہشتگرد، قاتل اور عوامی خون سے لت پت کردار ہے، اپنی دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ذریعے نہ صرف ریاست پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کی قیادت کر رہا ہے، بلکہ معصوم بلوچ نوجوانوں کو بھی شدت پسندی اور تباہی کے اندھے کنویں میں دھکیل رہا ہے۔ اب جب یہ فرد، جس کا دامن سیکڑوں پاکستانیوں کے خون سے آلودہ ہے، آئی ایس پی آر پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے، تو اسے محض ایک بھاگتے ہوئے دہشتگرد کی چیخ پکار سمجھنا چاہیے، جو اپنی بقا کے لیے پروپیگنڈا کا سہارا لے رہا ہے۔ داعش یا خراسان کے بیانیے کو آئی ایس پی آر سے جوڑنا سراسر ایک بے بنیاد اور مضحکہ خیز موقف ہے، جس کا مقصد ریاستی اداروں پر بےبنیاد الزام تراشی کے ذریعے اپنی دہشتگردی کو "آزادی" کا رنگ دینا ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر جیسے عناصر کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ مذہب، قومیت اور شناخت جیسے جذباتی نعروں کا استعمال کر کے عام نوجوان کو گمراہ کیا جائے، انہیں بندوق تھمائی جائے، اور پھر ان کی لاشوں پر سیاست کی جائے۔ یہی وہ شخص، جو خود بیرونی خفیہ ایجنسیوں کا تنخواہ دار ایجنٹ ہے،  اور قوم پرستی کی آڑ ...

سچ کے علمبردار: الزام کے نشانے پر؟

  تحریر: باشعور بلوچ  گزشتہ دنوں "ضمیر فروش صحافت: آواران کا المیہ" کے عنوان سے ایک مضمون سامنے سے گزرا جو بظاہر مظلوموں کی حمایت میں لکھا گیا تھا، مگر اس کی تان آواران کے مقامی صحافیوں کی کردار کشی پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی نہ سوچا گیا کہ جن صحافیوں پر یہ الزام تراشی کی جا رہی ہے، وہ بھی اسی پسماندہ خطے کا حصہ ہیں، وہ بھی وہی خطرات جھیلتے ہیں، وہی محرومیاں بھگتتے ہیں، اور بعض اوقات مظلوموں کی ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ الزامات یا جذباتی انتقام؟ مضمون میں مقامی صحافیوں پر مفاد پرستی، خاموشی، اور بزدلی جیسے الفاظ برسائے گئے۔ مگر یہ نہ سوچا گیا کہ آواران جیسے حساس علاقے میں صحافت کرنا کسی پرتعیش دفتر یا ملک سے باہر بیٹھ کر کالم لکھنے سے کہیں زیادہ کٹھن اور خطرناک عمل ہے۔ وہاں سچ بولنے کی قیمت صرف شہرت یا فنڈنگ کی بندش نہیں، بلکہ جان، خاندان اور روزگار داو پر ہوتا ہے۔ ہر تصویر جھوٹ نہیں ہوتی! کسی تقریب میں شرکت کرنا، کسی امدادی سامان کی تقسیم کی خبر سازی کرنا، یا کسی حکومتی یا علاقائی نمائندے کے ساتھ تصویر کھنچوانے کو "چاپلوسی" قرار دینا غیر منصفانہ ہے۔ مضمون...

قلات میں فتنۂ الہندستان کی ناکامی اور ریاستی گرفت کا واضح پیغام

 8 جون 2025ء  سیکیورٹی ذرائع کے مطابق:- قلات، شیخڑی حملے کے حوالے سے فتنہ الہندوستان کی جانب سے دعوٰی محض ایک ناکام پروپیگنڈا ہے، جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ اس وقت ریاستی اداروں کی مؤثر اور مربوط کارروائیوں کے نتیجے میں دہشتگرد عناصر نہ صرف پسپا ہو چکے ہیں بلکہ شدید دباؤ کا شکار بھی ہیں۔ قلات؛ الہندوستان کے کارندے اس وقت افراتفری کی حالت میں ہیں۔ سیکیورٹی فورسز کے اقدامات نے ان کے نیٹ ورکس کو توڑ کر رکھ دیا ہے، ان کی نقل و حرکت محدود ہو چکی ہے اور ان کے ٹھکانے ختم ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گروہ اب محض ظاہری کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ دور سے چند فائر کرنا اور اس کی ویڈیو بنا کر میڈیا کے ذریعے جھوٹا پروپیگنڈہ پھیلا کر اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قلات، شیخڑی کے حوالے سے ان کا دعویٰ بھی اسی جھوٹ اور مبالغے پر مبنی ہے۔ سیکیورٹی فورسز علاقے کو مکمل کنٹرول میں لیے ہوئے ہیں۔ قلات؛ فتنہ الہندوستان، اپنے آقاؤں کو کارکردگی دیکھانے کے دباؤ کا بےانتہا شکار ہے؛ ان کے مالی و عسکری سہولت کاروں کا نیٹ ورک کمزور ہو چکا ہے۔ انہیں نہ صرف اپنے محفوظ ٹھکانوں کا خاتمہ ب...

آزادی کے نام پر غداری کا کاروبار

 تم پوچھتے ہو اصل فتنہ کون ہے؟ بلوچ یا پنجابی؟ تو سنو، اصل فتنہ وہ نہیں جو کھیتوں میں ہل چلاتا ہے، یا سردی میں بارڈر پر کھڑا ہے — اصل فتنہ وہ ہے جو فتنۂ الہندستان کی گود میں بیٹھ کر “آزادی” کی آڑ میں اپنی ماں جیسی دھرتی کا سودا کرتا ہے۔ تم کہتے ہو ہیرا منڈی بند ہو گئی؟ نہیں بھائی، وہ بند نہیں ہوئی — صرف پتہ بدل گیا ہے۔ اب وہ کوٹھے پنجگور، کیچ اور تربت میں کھل چکے ہیں، جہاں تم جیسے بےغیرت غدار ضمیر، غیرت، اور قوم کا سودا کرتے ہیں۔ پہلے طوائفیں جسم بیچتی تھیں، اب تم نظریہ، نسل اور ریاست بیچتے ہو — اور اسے "جہاد" کا نام دیتے ہو۔ ہم اس پر لعنت بھیجتے ہیں جس نے اس ماں کی گود کو بارود سے بھر دیا، جس نے “قوم پرستی” کے نام پر ہر ماں کو بےاولاد کر دیا۔ ہم اس مخلوق پر تھوکتے ہیں جو دشمن کی گود میں پل کر پاکستان کی زمین پر تھوکتا ہے — اور پھر خود کو “مظلوم” کہتا ہے۔ تمہاری پوری تحریک ایک طوائف کے کوٹھے سے زیادہ ننگی اور بدبودار ہے — صرف فرق یہ ہے کہ طوائف کو معلوم ہوتا ہے وہ کیا بیچ رہی ہے، تمہیں نہیں۔ اور ہاں، جنہیں تم “ہیرو” کہتے ہو — وہ ہمیں صرف ہندوستان کے ٹکڑوں پر پلنے والے “کوٹھے...

A Poetic Reflection on Balochistan, Truth, and Justice

 بلوچستان کی مٹی میں ہے روشنی کی جوت! یہاں ہے وفا، نہ کہ صرف خاموشی کی موت۔ غم ہے یہاں، مگر یہ سوال بھی ہے لازم! کون ہے جو کرتا ہے ماؤں کے آنچل کو مدھم؟ ریاست نہیں، جو چھینے بچوں کی ہنسی! یہ دہشت ہے، جو کرے زندگی کی بے بسی۔ افواج تو ہیں محافظ، سایہ دار درخت! دھوکہ وہ، جو چھپے سچ کے پیچھے سخت۔ عورتیں، بچے، بنے ہیں جن کی ڈھال! وہی دشمن ہے، جو پھیلائے جال۔ خاموشی اگر ہے، تو حکمت کا ہے تقاضا! نہ ہو ہر چیخ پر فیصلہ، نہ ہو سچ کا تمسخر۔ ہر زخم کا مرہم ہے انصاف کا نور۔ نہ جھوٹی کہانی، نہ فریب کا شور۔ امید ہے ہمیں بھی، عدل کی روشنی پر! جہاں عوام اور محافظ، ایک ہی صف میں، سچ کے سفر پر۔ In Balochistan’s dust, not all is lost! It’s not the state, but terror’s cost. Families weep, their pain is true! But bombs are placed by just a few. Forces stand, not as foes! But as shields where danger grows. It's not the law that steals the peace. But those, who want the state to let them release! Women, children - they are used! By hands of terror, hurt and bruised. Media silence may seem deep! But truth ...

Exposing BYC's Shifting Narratives

False narratives surrounding BYC's claims about missing persons have been challenged on multiple fronts and subjected to thorough scrutiny by state authorities. Findings of the judicial commission later revealed that many of the so-called 'missing persons' were, in fact, involved in serious acts of terrorism . Most of the missing persons are those who voluntarily leave their homes to join a militant outfit and then are either killed in some terrorist activity or resurface later as an accomplice in a crime enterprise unearthed by the LEAs. The number of total missing persons registered by Commission of Inquiry on Enforced Disappearances (CoIoED) is 13464, among which 2911 cases (21%) are related to Balochistan. Out of these the CoIoED has resolved 2459 cases (success rate of 84%) leaving 452 cases unresolved. The resolved cases include individuals who had died in accidents with bodies unclaimed, deaths due to personal vendettas, illegal crossing over to neighboring co...