Posts

Showing posts from December, 2025
Image
تعلیم اور ترقی کے راستے میں دہشت گردی: پاکستان کی انسانی ترقی کے لیے خطرات ! مقدمہ پاکستان کی پہچان ہمیشہ علم، محنت اور ترقی کے جذبے سے جڑی رہی ہے۔ پاکستان اپنے شہریوں کو تعلیم اور امن کے ذریعے مضبوط بنانے پر یقین رکھتا ہے، اور ترقی کو ہر فرد کا حق سمجھتا ہے۔ لیکن چند دہشت گرد عناصر، جو بیرونی ایجنڈوں کے تحت کام کرتے ہیں، اس روشن سفر میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ یہ گروہ "آزادی" یا ذاتی مفادات کے نام پر وہ نقصان پہنچاتے ہیں جو قوم کی انسانی ترقی، معاشی استحکام اور سماجی ہم آہنگی کے لیے مہلک ہے۔ تعلیم اور ترقی کے راستے میں ہر رکاوٹ صرف ایک تعلیمی یا اقتصادی نقصان نہیں بلکہ مستقبل کی نسلوں کی سوچ، اخلاق اور ترقی کی بنیاد کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔   پس منظر -     دہشت گردی کا حقیقی چہرہ دہشت گردی کبھی عوام کی بھلائی یا ترقی کے فروغ کے لیے نہیں رہی۔ یہ بیرونی سازشوں اور چند گمراہ عناصر کے پروپیگنڈے کا حصہ ہے، جس کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور ترقی، تعلیم، اور روشن مستقبل کے راستے بند کرنا ہے۔ دہشت گرد گروہ عموماً درج ذیل اہداف کو نشانہ بناتے ہیں : ۱ ۔ تعلیمی ادارے : اسکول،...
Image
منتخب مظلومیت: جب صرف مخصوص لاشیں خبر بنتی ہیں مقدمہ ہم جس عہد میں جی رہے ہیں وہاں خبر کی قدر اس کی سچائی سے نہیں بلکہ اس کی مطابقتِ بیانیہ سے طے ہوتی ہے۔ میڈیا اب محض اطلاع کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ احساسات کی درجہ بندی کرنے والا ایک فلٹر بن چکا ہے—جو طے کرتا ہے کہ کون سا درد قابلِ توجہ ہے اور کون سا لاشعوری طور پر دفن کر دیا جائے۔ اسی فلٹر کا نام ہے منتخب مظلومیت ایک ایسا رجحان جس میں کچھ لاشیں سرخیاں بنتی ہیں، جبکہ باقی صرف اعداد و شمار رہ جاتی ہیں۔ مظلومیت کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟ جب عام شہری، مزدور، اساتذہ، بچے یا مسافر دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تو خاموشی چھا جاتی ہے۔ نہ ٹکرز چلتے ہیں، نہ اداریے لکھے جاتے ہیں، نہ انسانی حقوق جاگتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی کوئی مسلح فرد، سہولت کار یا شدت پسند کسی کارروائی میں مارا جائے، اچانک لفظ بدل جاتے ہیں — “ ماورائے عدالت قتل ” “ ریاستی جبر ” “ ایک اور مظلوم نوجوان ” یہ فرق حادثاتی نہیں بلکہ دانستہ ہے۔ یہاں لاش کی شناخت نہیں، اس کا سیاسی مصرف دیکھا جاتا ہے۔ لاش بطور بیانیہ ہتھیار منتخب مظلومیت میں انسانی جان کی قدر یکساں نہیں ہوتی۔ کچھ لاشیں سوال...
Image
نام نِہاد صحافت یا انفارمیشن وارفیئر مقدمہ ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کی شکل بدل دی ہے، میڈیا ریاست کا ایک کلیدی ستون بن چکا ہے اور صحافت کسی بھی معاشرے کے لیے گیم چینجر کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن جب حقائق کو دفن کر دیا جائے اور بیانیے کو ہتھیار بنا لیا جائے تو صحافت عوامی خدمت نہیں رہتی بلکہ تصادم کا ایک آلہ بن جاتی ہے۔ بلوچستان کے اطلاعاتی منظرنامے میں دی بلوچستان پوسٹ اور اس نوعیت کے دیگر پلیٹ فارمز خود کو اختلافِ رائے کی آواز یا آزاد نگران کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر عملی طور پر یہ ایک وسیع تر ہائبرڈ وارفیئر ایکو سسٹم کا حصہ بن کر سیاسی آلات کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کی اہمیت سچائی، تحقیقی دیانت یا احتساب سے نہیں بلکہ تحریف سے قائم ہے۔ شکایت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، سیاق و سباق کو مٹانا اور دہشت گردی پر منظم خاموشی اختیار کرنا ان کی پہچان ہے۔ یہ ناقص صحافت کا حادثہ نہیں بلکہ ایک مقصد کے تحت تیار کردہ بیانیاتی انجینئرنگ ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ یہ پلیٹ فارمز جانبدار ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ان کے طرزِ عمل کو ایمانداری سے صحافت کہا جا ...
Image
  JOURNALISM OR INFORMATION WARFARE   Introduction We live in an era where information technology has transformed the world, making media a key pillar of the state, and journalism a potential game-changer for any society. However, when facts are buried and narratives weaponized, journalism ceases to serve the public and instead becomes a tool of conflict. In this informational landscape, platforms like The Balochistan Post and similar outlets present themselves as voices of dissent or independent watchdogs, but in practice, they function as part of a broader hybrid warfare ecosystem, serving political agendas. Their significance is derived not from truth, investigative rigor, or accountability, but from distortion. Amplifying grievances, erasing context, and adopting systematic silence on terrorism are their hallmarks. This is not an accident of poor journalism but a deliberately engineered narrative. The real question is not whether these platforms are biased, but ...
Image
  طالب علموں کی ذہنی نشوونما پر دہشت گردی کے دور رس نفسیاتی اثرات آج سے تقریباً ایک دہائی قبل، 16 دسمبر 2014 کو، پشاور کے آرمی پبلک سکول میں وہ دلخراش سانحہ پیش آیا جس نے پوری قوم کے دل و دماغ کو چیر کر رکھ دیا۔ اُس دن صرف معصوم بچے ہی نہیں مارے گئے، بلکہ ہماری اجتماعی معصومیت کا جنازہ بھی نکال دیا گیا۔ یہ واقعہ محض ایک خبر نہیں، بلکہ ہماری نسل کے شعور پر ایک ایسا دائمی سایہ ہے جس سے ہم کبھی آزاد نہیں ہو سکتے۔ وہ صبح جو کبھی ڈھلی ہی نہیں: اے پی ایس اور ہمارا اجتماعی زخم دہشت گردی کا شکار ہونے والا ہر طالب علم صرف ایک عدد نہیں ہوتا۔ وہ ایک پوری کائنات ہوتا ہے، خواہشوں کے ستاروں، خوابوں کے جہانوں اور امیدوں کے سورج سے بھری ہوئی۔ اے پی ایس حملے میں جاں بحق ہونے والے 130 سے زائد بچے، زخمی ہونے والے، اور وہ جو جسمانی طور پر بچ گئے مگر روحانی طور پر ہمیشہ کے لیے زخمی ہو گئے، ان سب کی دنیا اس دن تاریک ہو گئی۔ یہ تاریکی صرف ان تک محدود نہیں رہی، بلکہ ملک کے ہر اسکول، ہر استاد، اور ہر طالب علم کے دل میں خوف کے بیج بو گئی۔ نفسیاتی اثرات: ایک خاموش طوفان تحقیق یہ بتاتی ہے کہ دہشت...