دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ نہیں: تحصیل زہری میں آپریشن کی حقیقت




تحصیل زہری میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن پر حالیہ تبصرے، بالخصوص ”سیج آف تحصیل زہری“ کے عنوان سے شائع ہونے والا اداریہ، بلوچستان میں خطرے کی نوعیت اور ریاست کے ردعمل دونوں کی سنگین غلط تعبیر پیش کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا بیانیہ آگے بڑھاتا ہے جو عام شہریوں کی تکالیف اور شدت پسند عناصر کے استحصال کے درمیان فرق کو جان بوجھ کر مٹاتا ہے، اور اس زمینی حقیقت کو نظرانداز کرتا ہے کہ زہری کے بعض علاقے "فتنۂ ہندوستان" کے دہشت گردوں نے بزور طاقت قبضے میں لے رکھے تھے - جو کہ عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں پر متعدد دہشت گرد حملوں کے ذمہ دار ہیں۔

یہ بات بالکل واضح ہے: ریاست اپنے لوگوں سے جنگ نہیں کر رہی۔ ریاست اُن سے جنگ کر رہی ہے جو عوام کے خلاف جنگ چھیڑے ہوئے ہیں۔

قانون کی بحالی، نہ کہ جنگ مسلط کرنا 


اداریے میں زہری آپریشن کو ایک اندھا دھند محاصرہ قرار دیا گیا ہے- جیسے یہ کارروائی اچانک اور بلا جواز شروع کی گئی ہو۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ آپریشن کئی ہفتوں کی دہشت گرد سرگرمیوں کے بعد شروع کیا گیا، جہاں مسلح دہشت گردوں نے زبردستی بعض دور دراز علاقوں اور عام شہریوں کی زندگی کو مفلوج کیا، بھتہ خوری کی اور مقامی سول انتظامیہ کو یرغمال بنانے رکھا۔


دو ماہ تک ان دہشت گردوں نے خوف، جبر اور دہشتگردانہ کارروائیوں سے ان علاقوں کو مفلوج رکھا - نہ کہ عوامی تائید یا کسی سیاسی اختیار کے ذریعے۔


ریاستی ردعمل کو جبر سے تشبیہ دینا انصاف کو انارکی سے، اور قانون کو بدامنی سے ملانے کے مترادف ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا ہدف بے گناہ عوام نہیں، بلکہ وہ دہشت گرد ہیں جو انسانی جانوں، چاہے وہ سویلین ہوں یا وردی میں، کی کوئی پروا نہیں کرتے۔


عام شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے


یہ الزام کہ خواتین اور بچے بلا امتیاز، خدا نخواستہ، نشانہ بنائے جا رہے ہیں؛ نہایت سنگین اور بے بنیاد ہے۔ پاکستان کی مسلح افواج ہر انسدادِ دہشت گردی آپریشن میں شہریوں کے تحفظ کو اولین حیثیت دیتی ہیں۔ ہر عسکری فیصلہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے کہ جانی نقصان کم سے کم ہو۔


المیہ یہ ہے کہ دہشت گرد جان بوجھ کر خود کو شہری آبادی میں چھپاتے ہیں اور انسانی ڈھال کے طور پر ان کا استعمال کرتے ہیں- اور یہی وہ اخلاقی مغالطہ ہے جسے بعض اداریے مزید ہوا دیتے ہیں۔


                   صاف اور دو ٹوک الفاظ میں: ہدف دہشت گرد ہیں، نہ کہ بے گناہ عوام!



انسانی ضروریات کا ادراک ہے - لیکن سلامتی اولین شرط ہے


زہری میں انسانی مسائل ضرور ہیں، لیکن ان کی وجہ صرف ریاست نہیں، بلکہ دہشت گرد ہیں جنہوں نے ان حالات کو ہتھیار بنا رکھا ہے۔ فتنۂ ہندوستان کے دہشت گرد نہ صرف امدادی راستے بند کرتے ہیں بلکہ عوام کے سامان و رسد پر قبضہ کرتے اور شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔


ریاست مکمل احتیاط اور سیکیورٹی اقدامات کے ساتھ امدادی راستوں کے ذریعے خوراک، پانی اور ادویات کی فراہمی کروا رہی ہے۔ لیکن جب تک دہشت گرد اور ان کے سہولت کار خطرہ بنے رہیں، کوئی بھی امدادی کوشش بالاتاتل نہیں کی جا سکتی۔



امن کا راستہ موجود ہے؛ مگر صرف پرامن طریقے سے


اداریہ بجا طور پر کہتا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن صرف طاقت کے ذریعے ممکن نہیں۔ اس نکتے سے اتفاق ہے۔ لیکن مذاکرات بندوق اور ضد کے سائے میں نہیں کیے جا سکتے۔


تشدد ترک کرنے والوں اور جمہوری عمل میں واپسی کے خواہشمندوں کے لیے سیاسی شمولیت کے دروازے کھلے ہیں۔ بہت سے سابق دہشت گرد، یا فراری، اس راستے کو اپنا چکے ہیں اور باعزت طریقے سے معاشرے میں واپس آئے ہیں۔ لیکن جو اب بھی قتل و غارت، دھونس، اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں - ان سے بات چیت ممکن نہیں، بلکہ ان کے لیے قانونی اور عسکری جواب ہے۔


امن ایک دو طرفہ عمل ہے۔ ریاست نے بارہا اس راہ پر چلنے کی نیت ظاہر کی ہے۔ سوال یہ ہے: کیا شدت پسند بھی ایسا کریں گے؟


دہشت گردی کے لیے کوئی پناہ نہیں، عوام کے لیے کوئی خطرہ نہیں


بلوچستان کا المیہ یہ نہیں کہ ریاست نے قانون کی عملداری قائم کرنے کی کوشش کی، بلکہ یہ ہے کہ بعض شدت پسند گروہوں نے جائز شکایات کو ہائی جیک کر کے دہشت گردی میں بدل دیا۔ بلوچستان کے عوام ترقی، عزت اور انصاف کے مستحق ہیں - لیکن سب سے بڑھ کر، وہ امن کے مستحق ہیں۔


یہ امن اس وقت حاصل نہیں ہوگا جب ریاست دہشت گرد گروہوں کو شہری علاقوں میں گھسنے دے اور آنکھیں بند کر لے۔ یہ امن صرف اسی وقت آئے گا جب قانون کی حکمرانی قائم ہو گی—جب کوئی بھی شخص، کسی بھی نظریے کے نام پر، قتل و غارت کا اختیار نہیں رکھے گا۔


پاکستان ایک پرامن اور خوشحال بلوچستان کے لیے پرعزم ہے۔ لیکن یہ بات واضح رہے: جو بھی ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھائے گا، اسے پناہ نہیں ملے گی۔ نہ زہری میں، نہ کہیں اور۔

Comments

Popular posts from this blog

بلوچستان میں بدامنی اور ریاست کا غیر متزلزل عزم

No Safe Haven for Terror: The Truth Behind the Operation at Zehri