بلوچستان میں بدامنی اور ریاست کا غیر متزلزل عزم



بلوچستان کی پہچان ہمیشہ سے شجاعت، مہمان نوازی، روایت اور وقار رہی ہے۔اس دھرتی کے لوگ صدیوں سے امن، تجارت اور علم کو اپنی طاقت سمجھتے آئے ہیں۔ مگر چند دہشت گرد گروہ، جو بیرونی سازشوں اور ذاتی مفادات کا ایندھن بنے ہوئے ہیں، اس خطے کے امن کو متواتر نشانہ بناتے آئے ہیں۔یہ گروہ ’’آزادی‘‘ کے نام پر وہ ظلم کرتے ہیں جسے بلوچ تاریخ کبھی قبول نہیں کرتی۔

جیسا کہ میر گل خان نصیر نے کہا تھا:

’’بلوچ وہ ہے جو سچ، غیرت اور وفا پر کھڑا رہے- ظلم اور دھوکے سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔‘‘

یہی بلوچ معیار ہے - اور یہی وہ معیار ہے جسے دہشت گرد سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔


پس منظر -  دہشت گردی کا اصل کھیل


بلوچستان میں دہشت گردی کبھی کسی عوامی تحریک کی نمائندہ نہیں رہی ہے ۔یہ ہمیشہ بیرونی مفادات، چند گمراہ گروہوں اور سوشل میڈیا پر بیٹھے ’’بھارتی پراکسیز ‘‘ کے پروپیگنڈے کا شاخسانہ رہی ہے۔ان عناصر کا اصل مقصد صرف ایک ہے:
عوام میں خوف پیدا کرنا، تاکہ وہ ترقی، تعلیم، روزگار اور امن کی راہ سے دور ہوجائیں۔

یہی وجہ ہے کہ وہ مندرجہ ذیل مخصوص اہداف کو نشانہ بناتے ہیں:

·  ترقیاتی منصوبے

·  تعلیمی ادارے

·  محنت کش طبقہ

·  ریاستی اہلکار

·  اور وہ تمام شہری جو امن، استحکام اور روشن مستقبل کا ساتھ دیتے ہیں

بلوچستان کے معتبر رہنما غوث بخش بزنجو نے اس ذہنیت کو برسوں پہلے پہچانتے ہوئے کہا تھا:

’’بلوچستان کا مستقبل تشدد سے نہیں، جمہوریت اور امن سے بنے گا۔‘‘

آج بھی یہ قول حقیقت کی گونج ہے - اور یہی وہ وژن ہے جسے دہشت گرد سب سے زیادہ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، کیونکہ امن اور ترقی ہی ان کے ایجنڈے کی سب سے بڑی شکست ہے۔


جھوٹا بیانیہ اور عوام پر وار

دہشت گرد گروہوں کا سب سے بڑا جھوٹ یہ ہے کہ وہ عوام کے لیے لڑ رہے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ:

·            ان کی گولی عام شہری پر چلتی ہے

·            ان کی بارودی سرنگیں محنت کش کو نشانہ بناتی ہیں

·            ان کا غصہ اسکولوں، ہسپتالوں اور بسوں پر نکلتا ہے

یہ ’’آزادی‘‘ نہیں، بلوچوں کی نسلوں پر حملہ ہے۔


ریاستی عزم  -  امن، خدمت اور ترقی

ریاست کا مؤقف بالکل واضح ہے:
                  ’’امن کسی ایک قبیلے کا نہیں، پورے بلوچستان کا حق ہے۔‘‘

اسی لیے ریاست نے ہمیشہ تین اصولوں پر کام کیا:

۱۔عوام کا تحفظ

قانون نافذ کرنے والے ادارے ہر روز دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، تاکہ ایک بھی شہری کا خون نہ بہے۔


۲۔ترقی کا تسلسل

سڑکیں، یونیورسٹیاں، ڈیم، صحت کی سہولیات - یہ سب اس وژن کا حصہ ہیں جس سے بلوچستان کو باوقار مستقبل ملے۔


۳۔ انصاف اور ریاستی خدمت

ریلیف کیمپوں سے لے کر مقامی سطح پر سیکیورٹی تک، ریاست کا مقصد واضح ہے:
عوام محفوظ ہوں،  بچے پڑھیں اور بلوچستان کا مستقبل روشن ہو۔



دہشت گردی کی اصل بربریت  -  چند ناقابلِ انکار حقائق


۱۔ تعلیم پر حملے

اساتذہ کا قتل، اسکولوں کی تباہی - یہ وہ جرم ہے جو آنے والی نسلوں کا مستقبل چھینتا ہے۔


۲۔ روزگار پر وار

مزدوروں، انجینئروں اور کام کرنے والے عام افراد کو نشانہ بنانا - یہ دہشت گردی کے سب سے بزدلانہ ہتھکنڈے ہیں۔


۳۔ عام شہریوں کا قتل

بسوں سے اتار کر شناخت کی بنیاد پر قتل کرنا - یہ نہ سیاست ہے، نہ مزاحمت، صرف وحشت ہے۔


۴۔ بلوچستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا

غلط تصاویر، جھوٹے کیسز، جعلی پروپیگنڈایہی ان کا ’’ڈیجیٹل محاذ‘‘ ہے۔


سچ بمقابلہ سفاکیت

ایک طرف ریاست ہے جو:

·            اسپتال بناتی ہے

·            سڑکیں بچھاتی ہے

·            یونیورسٹیاں کھولتی ہے

·            عوام کا تحفظ کرتی ہے


اور دوسری طرف وہ گروہ ہیں جو:

·            اسکول جلاتے ہیں

·            مزدور مارتے ہیں

·            شہری اغوا کرتے ہیں

·            جھوٹ اور پروپیگنڈا کر کے انتشار پھیلاتے ہیں


بلوچستان دہشت گردی کی سیاست کو مسترد کر چکا ہے۔عوام بھی جانتے ہیں کہ امن کا راستہ ریاست کے ساتھ جاتا ہےنہ کہ تشدد کے

گروہوں کے ساتھ۔ریاست نے بھی ثابت کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف اس کا عزم اٹل ہے۔

اور جب ریاست، عوام اور روایت ایک طرف کھڑے ہوں - تو دہشت، جبر اور پروپیگنڈے کے تمام ایجنڈے خود بخود بکھر جاتے ہیں۔بلوچستان کا مستقبل روشن ، پرامن اور متحد ہے۔

     

خوشحال بلوچستان، مضبوط پاکستان

 

            

 

 

 

 


Comments

Popular posts from this blog

دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ نہیں: تحصیل زہری میں آپریشن کی حقیقت

No Safe Haven for Terror: The Truth Behind the Operation at Zehri