لالا لطیف — صحافت کی آڑ میں تخریب کاری کا علمبردار
بلوچستان کی موجودہ صورتحال میں جہاں ایک طرف ریاست ترقی، امن، اور تعلیم کی راہ پر گامزن ہے، وہیں کچھ افراد ایسے بھی ہیں جو اس روشنی کو نفرت، گمراہی، اور انتقام کی تاریکی میں چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عبدالطیف بلوچ عرف لالا لطیف کا شمار بھی ایسے ہی افراد میں ہوتا ہے، جو بظاہر ایک “انسان دوست صحافی” کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ ایک انتہا پسند بیانیے کا سرگرم پرچارک اور کالعدم دہشتگرد تنظیم بی ایل اے کا نظریاتی سہولت کار تھا۔
لالا لطیف کو صحافت کا لبادہ اوڑھا کر اسے مظلوم ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، لیکن اس کی تحریروں اور تقاریر کا تجزیہ واضح کرتا ہے کہ وہ ریاستِ پاکستان کے خلاف ایک منظم پروپیگنڈا مہم چلا رہا تھا۔ اس کے کالمز میں بی ایل اے کی دہشتگردانہ کارروائیوں کی پردہ پوشی، ریاستی اقدامات کی مذمت، اور نوجوانوں کو ریاست سے متنفر کرنے کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ اس نے بلوچستان کے مظلوم عوام کے جذبات کو استعمال کر کے دہشتگردی کو “مزاحمت” کا نام دیا، جو کہ صحافتی اصولوں اور انسانی اخلاقیات دونوں کے خلاف ہے۔
لالا لطیف کا بیانیہ، اندازِ تحریر، اور زبان وہی تھی جو بھارت، افغانستان اور دیگر دشمن ممالک کے زیرِ اثر میڈیا ادارے پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ وہ ایک متعصب نظریاتی فریم ورک کے تحت صرف ریاستی اداروں کو نشانہ بناتا رہا، مگر بلوچستان میں بی ایل اے اور دیگر دہشتگرد گروہوں کے حملوں پر کبھی لب کشائی نہ کی۔ وہی بی ایل اے جس نے اسکولوں، ٹرینوں، مسافروں اور مزدوروں کو نشانہ بنایا، لالا لطیف کی تحریروں میں “انقلابی” اور “مظلوم” کے طور پر دکھایا جاتا رہا۔ یہ طرزِ عمل دراصل دہشتگرد بیانیے کو جواز فراہم کرنے اور ریاستی رِٹ کو کمزور کرنے کی ایک کوشش تھی۔
لالا لطیف کی سرگرمیاں صحافت سے کہیں آگے بڑھ چکی تھیں۔ وہ بلوچستان اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (BSO) جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوانوں کو ریاست سے بدظن کرتا اور انہیں بی ایل اے جیسے گروہوں کے قریب لانے کا ذریعہ بنتا۔ اس نے قلم کو تعلیم، آگاہی اور اصلاح کے بجائے نفرت، اشتعال اور بغاوت کے لیے استعمال کیا، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی نوجوان دہشتگردی کی راہ پر چل نکلے۔
لالا لطیف کی ہلاکت کو ریاستی کارروائی قرار دینے والے عناصر حقائق کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق، لالا لطیف کو بی ایل اے کے اندرونی اختلافات اور فنڈز کی تقسیم پر پیدا ہونے والے جھگڑے کے نتیجے میں خود اسی تنظیم کے کارندوں نے قتل کیا۔ جیسا کہ اکثر شدت پسند تنظیموں میں ہوتا ہے، جب پرانے سہولت کار بوجھ بننے لگتے ہیں یا ان کے نظریاتی اختلافات ابھرنے لگتے ہیں تو وہ “راستے سے ہٹا دیے” جاتے ہیں۔ لالا لطیف بھی اسی انجام کو پہنچا۔
لالا لطیف نے اپنے بیٹے اور بھائی کی موت کو ریاست کے خلاف نفرت بھڑکانے کے لیے استعمال کیا، مگر کبھی یہ تسلیم نہ کیا کہ وہ کن سرگرمیوں میں ملوث تھے اور کن تنظیموں سے وابستہ تھے۔ وہ عوام کو یہ باور کراتا رہا کہ ریاست دشمن ہے، مگر کبھی یہ نہیں بتایا کہ بی ایل اے جیسے گروہ کس طرح بلوچ عوام کو قتل، اغوا اور خوف میں مبتلا کر رہے ہیں۔
آج لالا لطیف جیسے افراد کو "ہیرو" بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ نوجوانوں کو گمراہ کر کے انہیں ایک بار پھر ریاست سے بدظن کیا جا سکے۔ مگر قوم کو سمجھنا ہو گا کہ وہ شخص جو پاکستان کے دشمنوں کا ترجمان، دہشتگردوں کا نظریاتی رہنما، اور ریاستی اداروں کا مخالف تھا، وہ کسی صورت بلوچستان کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔
لالا لطیف کی موت کا ماتم کرنے کے بجائے ہمیں اس کی زندگی اور کردار کو بے نقاب کرنا ہوگا۔ وہ صحافی کے بھیس میں بی ایل اے کا ہمدرد، ریاست کا مخالف، اور دشمن قوتوں کا آلہ کار تھا۔ اس کی موت اس نفرت اور گمراہی کا انجام ہے جو وہ برسوں تک پھیلاتا رہا۔ بلوچستان کو اب لالا لطیف جیسے پراکسیز نہیں، بلکہ امن، تعلیم اور ترقی کے علمبرداروں کی ضرورت ہے۔
Comments
Post a Comment