عبدالطیف کی ھلاکت: کیا افسانہ، کیا حقیقت




کل سے عبدالطیف، جو بی ایس او آزاد اور مشکے پریس کلب کا صدر تھے، کی ھلاکت متضاد کھانیوں کی زد میں ہے۔


سب سے پہلے کچھ مخصوص صحافی اور بی وائ سی  جیسے پاکستان مخالف حلقے ہیں، جو عادتاً، بلا تحقیق اور  بلا ثبوت اس واقع میں کوئ حکومتی کاروائ کا پرچار کر رہے ہیں۔ یوں اس افسانہ کے پس پردہ ان حلقوں کی  معلومات سے زیادہ انکی عادت کی مجبوری یا تعصب یا پھر معاشی مفاد کار فرما نظر آتی ہے۔ 


دوسری طرف مقامی عسکریت پسند گروہ ہیں- ان کے اندر کی چہ مگوئ میں مختلف سازش کے افسانہ اور کچھ سراسیمگی نظر آ رہی ہے- جس کی بڑی وجہ لالہ لطیف کا پچھلے کچھ ٹائم سے ایف سی اور فوجیوں کے ساتھ تعلقات وغیرہ ہے-  کچھ گروپ میں خبر گرم ہے کہ بشیر زیب بہت زیادہ غصے میں تھا-  اک اور قصہ جو گردش میں ہے وہ لالہ کا زیادہ جھکاؤ بی آل اے کی طرف ہونا تھا جو ڈاکٹر کے شک بنا- 


بہرحال، ھمارے تحقیق میں سب سے زیادہ اہم مقامی زرائع ہیں، جس کی مختصر خلاصہ پیش خدمت ہے-     


عبدالطیف کا سفر اس کی دور طالبعلمی سے شروع ہوا۔اس زمانہ میں وہ اپنی تشدد پسند، باغیانہ اور چالاک طبیعت کی وجہ سے "بی ایل ایف" کا آسان پرزہ بن گیا۔ یوں دولت اور طاقت کے پیچھے، اس نے تربیت حاصل کی اور خود کو  گروہ کا جاسوسی اور شعلہ بیانی میں کارآمد ثابت کیا۔  


وہ بی ایس او کا صدر  بنا، ایک ایسا عہدہ جس نے اسے نوجوانوں کے زہن تنظیم کے بنانے  میں مدد دی۔ 


لطیف کی دوہری زندگی پیچیدہ تھی ۔ ظاہری طور پر وہ مشکے پریس کلب کا صدر  بھی بنا۔ اسکے علاوہ وہ مختلف اخبار اور مخالف سوشل میڈیا اور نیوز چینلز جیسکہ زرمبش وغیرہ کے لیے رپورٹنگ بھی کرتا۔

مقامی زرائع کے مطابق بھائی اور بیٹے کے  مارے جانے اور تنظیم کی لاپرواہی  کے بعد درپردہ  شاید وہ مایوس ہو کے الٹی طرف چل پڑا ۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ اک لمبے سفر کے بعد وہ اپنے ہی  آگ میں دھکیل دیا گیا۔ 


جیسے جیسے اندرونی اختلافات بڑھے، شکوک و شبہات بھی بڑھنے لگے۔ سالہا سالہ کام کے باوجود، لطیف خود اپنا نشانہ بن گیا۔ 


 فتنہ و فساد کی راہ آخرکار  انجام تک پہنچتاہے۔ 

 

 کوئی بھی باغیی دنیا میں محفوظ نہیں، یہاں تک کہ اپنے سے بھی۔ 


اسحاق علی ۔ مشکے

Comments

Popular posts from this blog

بلوچستان میں بدامنی اور ریاست کا غیر متزلزل عزم

دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ نہیں: تحصیل زہری میں آپریشن کی حقیقت

No Safe Haven for Terror: The Truth Behind the Operation at Zehri