ریاست مخالف بیانیہ یا مقامی جھگڑا؟ آواران سانحے کی حقیقت


تاریخ: 27 مئی 2025


گزشتہ شب آواران کے علاقے مالار مچھی میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے سے متعلق بعض ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور بے بنیاد دعوے گردش کر رہے ہیں، جن میں سیکیورٹی فورسز کو اس سانحے سے منسلک کیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔


حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ واقعہ دو مقامی مخالف گروپوں کے درمیان باہمی مسئلے کے باعث جھڑپ کا نتیجہ تھا، جس میں دو افراد جاں بحق (احمد علی اور حورک)  اور ایک خاتون زخمی ہوئیں۔ سیکیورٹی فورسز یا کسی سرکاری ادارے کا اس واقعے سے براہِ راست یا بالواسطہ کوئی تعلق نہیں۔ اور بغیر ثبوت کسی ادارے کو مورود الزام ٹھرانا قانونی طور پر جرم ہے۔


واقعے کے فوری بعد لیویز فورس نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا، ایف آئی آر درج کی اور تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ قانون کے مطابق ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔


مزید برآں، سیکیورٹی اداروں نے زخمی بزرگ خاتون کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے ضلعی اسپتال منتقل کیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ مقامی افراد نے اس امدادی اقدام کو سراہا اور اظہارِ تشکر کیا۔


متعلقہ حکام نے عوام الناس  سے اپیل کی ہے کہ غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے مستند ذرائع سے حاصل شدہ حقائق پر مبنی خبریں شائع کریں تاکہ عوام میں خوف و اضطراب کے پھیلاؤ سے بچا جا سکے۔


ریاست تمام شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ضامن ہے اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر قسم کے اقدامات کیے جا رہے ہیں

Comments

Popular posts from this blog

بلوچستان میں بدامنی اور ریاست کا غیر متزلزل عزم

دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ نہیں: تحصیل زہری میں آپریشن کی حقیقت

No Safe Haven for Terror: The Truth Behind the Operation at Zehri