پاکستانی فوجی آپریشن نے بھارتی فضائیہ کی کمزوریاں بے نقاب کر دیں: فرانسیسی اخبار نے رافیل طیاروں کے نقصان کی تصدیق کر دی
پاکستان کے حالیہ فوجی ردعمل نے نہ صرف بھارتی جارحانہ آپریشن "سندور" کو ناکام بنایا بلکہ بھارتی فضائیہ کی جنگی صلاحیتوں پر سنگین سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔ معروف فرانسیسی اخبار Le Monde (لو موند) کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق بھارت کو اس کارروائی کے دوران کم از کم تین جنگی طیاروں کا نقصان اٹھانا پڑا، جن میں جدید ترین رافیل طیارے بھی شامل ہیں۔
یہ جھڑپ 6 اور 7 مئی 2025 کی درمیانی شب اس وقت ہوئی جب بھارت نے کشمیر کے علاقے پہلگام میں 22 اپریل کو ہونے والے حملے کے جواب میں پاکستان کے مختلف مقامات پر بمباری کی۔ تاہم، اس کارروائی سے مطلوبہ فوجی برتری حاصل کرنے کے بجائے بھارت کو شدید جانی اور دفاعی نقصان برداشت کرنا پڑا۔
Le Monde کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فضائیہ نے پاکستانی سرزمین پر کئی اہداف کو نشانہ بنایا، مگر اس کے بدلے میں کم از کم تین بھارتی جنگی طیارے تباہ ہوئے۔ ان میں ایک رافیل طیارہ شامل ہونا اس طیارے کی تاریخ میں پہلا تصدیق شدہ جنگی نقصان ہے۔
پاکستانی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے مطابق، پاکستان نے پانچ بھارتی طیارے مار گرائے جن میں تین رافیل، ایک میگ-29، اور ایک سخوئی SU-30 شامل تھے۔ یہ طیارے پاکستانی JF-17 اور چینی ساختہ چنگدو J-10 طیاروں کی مدد سے نشانہ بنائے گئے۔ اگرچہ بھارت کی جانب سے ابھی تک سرکاری سطح پر ان نقصانات کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم ایک بھارتی سیکیورٹی ذریعے نے AFP سے گفتگو میں بھاری نقصان کی غیر رسمی تصدیق کی ہے۔
دفاعی تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر رافیل طیاروں کے نقصان کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ نہ صرف بھارت بلکہ رافیل کی بین الاقوامی ساکھ کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ فرانسیسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن اور اسلحہ خریداری کے فیصلوں پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
Le Monde کی اس رپورٹ کو صحافی سوفی لینڈرن (نئی دہلی) اور ایلز وینسینٹ نے مرتب کیا ہے۔ اخبار نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ان کے مضامین کی مکمل یا جزوی نقل بغیر اجازت سختی سے ممنوع ہے، اور اسے صرف ویب سائٹ پر موجود "شیئر" بٹن کے ذریعے ہی شیئر کیا جا سکتا ہے۔
جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے، "آپریشن سندور" کے نتائج دونوں ممالک کے لیے ایک نیا موڑ ثابت ہو سکتے ہیں—اور یہ خطے کی مستقبل کی عسکری و سیاسی حکمت عملیوں پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment