آزادی کے نام پر غداری کا کاروبار

 تم پوچھتے ہو اصل فتنہ کون ہے؟ بلوچ یا پنجابی؟

تو سنو، اصل فتنہ وہ نہیں جو کھیتوں میں ہل چلاتا ہے، یا سردی میں بارڈر پر کھڑا ہے —

اصل فتنہ وہ ہے جو فتنۂ الہندستان کی گود میں بیٹھ کر “آزادی” کی آڑ میں اپنی ماں جیسی دھرتی کا سودا کرتا ہے۔


تم کہتے ہو ہیرا منڈی بند ہو گئی؟

نہیں بھائی، وہ بند نہیں ہوئی — صرف پتہ بدل گیا ہے۔

اب وہ کوٹھے پنجگور، کیچ اور تربت میں کھل چکے ہیں، جہاں تم جیسے بےغیرت غدار ضمیر، غیرت، اور قوم کا سودا کرتے ہیں۔ پہلے طوائفیں جسم بیچتی تھیں، اب تم نظریہ، نسل اور ریاست بیچتے ہو — اور اسے "جہاد" کا نام دیتے ہو۔


ہم اس پر لعنت بھیجتے ہیں جس نے اس ماں کی گود کو بارود سے بھر دیا، جس نے “قوم پرستی” کے نام پر ہر ماں کو بےاولاد کر دیا۔

ہم اس مخلوق پر تھوکتے ہیں جو دشمن کی گود میں پل کر پاکستان کی زمین پر تھوکتا ہے — اور پھر خود کو “مظلوم” کہتا ہے۔


تمہاری پوری تحریک ایک طوائف کے کوٹھے سے زیادہ ننگی اور بدبودار ہے — صرف فرق یہ ہے کہ طوائف کو معلوم ہوتا ہے وہ کیا بیچ رہی ہے، تمہیں نہیں۔


اور ہاں، جنہیں تم “ہیرو” کہتے ہو — وہ ہمیں صرف ہندوستان کے ٹکڑوں پر پلنے والے “کوٹھے کے نوکر” ہیں۔


سچ یہ ہے کہ تمہیں اگر پاکستان کی گود راس نہیں آتی، تو ریاست کے پاس تمھارے لیے قبر کی گود بچی ہے۔


پاکستان کو تم جیسے فتنوں سے اب آزاد کرنے کا وقت ہے۔

تمہاری تاریخ ختم کر دی جائے گی اور تمہارا نام مٹا دیا جائے گا۔


~ عمران بلوچ ~

Comments

Popular posts from this blog

بلوچستان میں بدامنی اور ریاست کا غیر متزلزل عزم

دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ نہیں: تحصیل زہری میں آپریشن کی حقیقت

No Safe Haven for Terror: The Truth Behind the Operation at Zehri