سچ کے علمبردار: الزام کے نشانے پر؟

 تحریر: باشعور بلوچ 


گزشتہ دنوں "ضمیر فروش صحافت: آواران کا المیہ" کے عنوان سے ایک مضمون سامنے سے گزرا جو بظاہر مظلوموں کی حمایت میں لکھا گیا تھا، مگر اس کی تان آواران کے مقامی صحافیوں کی کردار کشی پر آ کر ٹوٹتی ہے۔ ایک لمحے کے لیے بھی نہ سوچا گیا کہ جن صحافیوں پر یہ الزام تراشی کی جا رہی ہے، وہ بھی اسی پسماندہ خطے کا حصہ ہیں، وہ بھی وہی خطرات جھیلتے ہیں، وہی محرومیاں بھگتتے ہیں، اور بعض اوقات مظلوموں کی ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔


الزامات یا جذباتی انتقام؟

مضمون میں مقامی صحافیوں پر مفاد پرستی، خاموشی، اور بزدلی جیسے الفاظ برسائے گئے۔ مگر یہ نہ سوچا گیا کہ آواران جیسے حساس علاقے میں صحافت کرنا کسی پرتعیش دفتر یا ملک سے باہر بیٹھ کر کالم لکھنے سے کہیں زیادہ کٹھن اور خطرناک عمل ہے۔ وہاں سچ بولنے کی قیمت صرف شہرت یا فنڈنگ کی بندش نہیں، بلکہ جان، خاندان اور روزگار داو پر ہوتا ہے۔


ہر تصویر جھوٹ نہیں ہوتی!


کسی تقریب میں شرکت کرنا، کسی امدادی سامان کی تقسیم کی خبر سازی کرنا، یا کسی حکومتی یا علاقائی نمائندے کے ساتھ تصویر کھنچوانے کو "چاپلوسی" قرار دینا غیر منصفانہ ہے۔ مضمون میں صحافیاتی مصروفیات میں شمولیت کو بدنیتی سے جوڑ کر صحافت کے بنیادی اصولوں کی نفی کی جا رہی ہے۔ صحافت محض تنقید کا نام نہیں، معلومات تک رسائی، تعلقات سازی، اور کمیونٹی مشغولیت کا ذریعہ بھی ہے۔


"خاموشی" ہر بار جرم نہیں ہوتی!


یہ کہنا کہ "جب نوجوان لاپتا ہوتے ہیں تو صحافی خاموش ہو جاتے ہیں"، ایک جذباتی بیان تو ہو سکتا ہے، مگر مکمل حقیقت نہیں۔ بعض اوقات خاموشی ایک اسٹریٹیجک عمل بھی ہوتا ہے، جہاں کھلے عام بولنا صرف مظلوم کے لیے نہیں بلکہ صحافی کے لیے بھی جان لیوا ہو سکتا ہے۔ کیا ایسی صورتحال میں خاموش رہنا بزدلی ہے یا دانشمندی؟ یہ فیصلہ کسی محفوظ مقام پر بیٹھ کر کرنا آسان ضرور ہے، مگر منصفانہ نہیں!


غیر جانبداری: ایک اصول، نہ کہ کمزوری!


صحافی اگر غیر جانبدار رہنے کی بات کریں تو انہیں بزدل کہنا ایک خطرناک بیانیہ ہے۔ غیر جانبداری دراصل صحافت کا بنیادی اصول ہے، جس کا مقصد ذاتی مفادات یا جذبات سے بالاتر ہو کر حقائق کو پیش کرنا ہے۔ اسے "شریک جرم" کہنا خود انصاف کی تضحیک ہے۔


اصلاح ضرور، مگر عزت کے ساتھ!


صحافت کا شعبہ کسی بھی دوسرے ادارے کی طرح اصلاح کا طالب ہو سکتا ہے۔ مگر اصلاح کا طریقہ نفرت، الزامات اور کردار کشی نہیں بلکہ تعاون، تحفظ اور تربیت ہونا چاہیے۔ اگر آواران کے صحافی واقعی سچ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں، تو ان کی حوصلہ افزائی اور پشت پناہی کی جانی چاہیے نہ کہ انہیں رسوا کیا جائے۔


صحافت ایک طاقت ہے، اور طاقت کو ذمہ داری کے ساتھ برتنا ہوتا ہے؛ مگر طاقت پر تنقید بھی ذمہ داری سے ہونی چاہیے۔ ہر دیکھنے والا مظلوم، مظلوم نہیں ہوتا۔ اگر ہم واقعی مظلوموں کے ہمدرد ہیں تو ہمیں ان کی جاہز آواز بننے والوں کی زبان کاٹنے کے بجائے ان کے ساتھ کھڑے ہونا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، وہ دن دور نہیں جب نہ کوئی صحافی بچے گا، نہ کوئی آواز، اور نہ کوئی سچ!

Comments

Popular posts from this blog

بلوچستان میں بدامنی اور ریاست کا غیر متزلزل عزم

دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ نہیں: تحصیل زہری میں آپریشن کی حقیقت

No Safe Haven for Terror: The Truth Behind the Operation at Zehri