بلوچ آزادی کی تحریک۔ اقتدار کی نہیں، گمراہ کن سوچ کی جنگ۔

 بلوچستان کی تاریخ قربانی اور غیرت سے بھری ہوئی ہے، مگر اسے صرف ہتھیار اور شورش کا میدان سمجھ لینا زیادتی ہے۔ حق، آزادی اور خود ارادیت کے نام پر اپنی ہی قوم کو خوف، غربت اور پسماندگی کی طرف دھکیلنا ظلم ہے۔


بلوچستان کی آزادی کی تحریک ایک جذباتی اور پیچیدہ موضوع ہے، جسے کبھی کبھار صرف نعرے بازی اور جذباتی اُبھار کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ایک سچی تحریک میں شعور، حکمت، تدبر اور قوم کے وسیع تر مفاد کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ آزادی کا مقصد  آزادی کے نعرے لگانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ  قوم کی ترقی، فلاح اور خوشحالی کی راہ  ہموار کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہیے ۔


جب تحریکوں میں صرف جذباتیت اور اشتعال انگیزی کا عنصر شامل ہو، تو وہ نہ صرف قوم کو گمراہ کرتی ہیں بلکہ اس کی اصل منزل کو بھی متنازعہ بنا دیتی ہیں۔ ان تحریکوں کا فائدہ صرف وہ لوگ اُٹھاتے ہیں جو ذاتی مفاد یا بیرونی ایجنڈے کے تحت عوامی جذبات کو استعمال کرتے ہیں۔                                                                                                                  

ان کی "دوستی" صرف تزویراتی ہے، جو دراصل بلوچستان کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کے راستے میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔


سچے دوست کی حقیقت


سچا دوست وہ نہیں جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہے، نہ وہ جو آپ کی ہر بات کی تائید کرے۔ سچا دوست وہ ہے جو آپ کو آپ کی غلطیوں سے آگاہ کرے، جو آپ کو جذباتیت کے طوفان میں بہنے سے روکے، جو آپ کو وقتاً فوقتاً آئینہ دکھا کر آپ کے اندر کی حقیقت کو واضح کرے۔ سچا دوست وہ ہے جو صرف تعریف و توہین کی باتیں نہ کرے، بلکہ سچائی کا پہلا قدم اٹھائے، چاہے وہ کتنا ہی تلخ ہو۔


کسی بھی تحریک یا جدوجہد میں سچے دوست کی ضرورت اس لیے ہوتی ہے کہ وہ تحریک کے مقصد کو نظرانداز کیے بغیر، صرف جذباتی فیصلوں کے بجائے حکمت اور تدبر سے فیصلہ کرے۔ وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ آپ کسی نامناسب راستے پر چلیں، بلکہ وہ آپ کو روک کر صحیح راہ پر چلنے کی رہنمائی دے گا۔


اس سے بڑھ کر سچا دوست وہ ہوتا ہے جو آپ کی کامیابی کو آپ کے ساتھ مل کر جیتنے کا خواہش مند ہو، نہ کہ جو آپ کو اپنی ذاتی کامیابی کے لیے استعمال کرے اور آپ کی قربانیوں کو ضائع کرے۔ سچے دوست کی دوستی آپ کے اندر موجود بے چینی اور غصے کو سمجھ کر اسے خاموش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ نہ صرف آپ کے جذبات کی قدر کرتا ہے، بلکہ آپ کے مقصد کی اہمیت اور حقیقت کو سمجھ کر آپ کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔


آج کی سیاست اور تحریکوں میں اکثر ایسے دوست نظر آتے ہیں جو صرف نعرے بازی تک محدود رہتے ہیں اور حقیقت میں کچھ کرنے کی بجائے آپ کے جذبات کو بھڑکاتے ہیں، تاکہ ان کا اپنا مفاد پورا ہو۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سچی دوستی کا تصور صرف ایک لفظ تک محدود رکھتے ہیں، مگر ان کے عمل میں کہیں کوئی حقیقت نہیں ہوتی۔


بلوچ قوم کی ترقی اور آزادی تب ہی ممکن ہے جب ہم سچے دوستوں کی مدد سے محض نعرے بازی کے بجائے حقیقت پسندانہ اقدامات کریں، جو دراصل اس قوم کے روشن مستقبل کا ضامن بن سکیں۔ ایسے دوست جو تحریکوں کے پیچھے کی حقیقت کو سمجھ کر اور علم و بصیرت سے کام لیتے ہوئے نہ صرف مقصد کو حاصل کرنے کے لیے محنت کریں، بلکہ اس کے دوران ہمیں اپنی اقدار، اصول اور سچائی سے بھی منحرف نہ ہونے دیں۔


~ باقر علی ~

Comments

Popular posts from this blog

بلوچستان میں بدامنی اور ریاست کا غیر متزلزل عزم

دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ نہیں: تحصیل زہری میں آپریشن کی حقیقت

No Safe Haven for Terror: The Truth Behind the Operation at Zehri