ریاستی سالمیت، آئین کی بالادستی اور بیرونی پروپیگنڈے کا چہرہ
معمول کی گردانی کے دوران فیس بک پر اچانک ایک پوسٹ نظروں سے گزری، جس میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کی حمایت کی گئی تھی۔ اس تحریر میں ایمان مزاری کو نہ صرف بی وائی سی کی قیادت کی وکیل بلکہ ان کی آواز قرار دے کر پیش کیا گیا تھا۔ پوسٹ میں ریاستی اداروں پر کھلے عام الزامات عائد کیے گئے، اور ریاستی بیانیے کو جھٹلانے کی شعوری کوشش کی گئی۔ ایسے میں خاموش رہنا محض لاتعلقی نہیں بلکہ قومی مفاد سے روگردانی کے مترادف تھا۔پاکستان ایک خودمختار، آئینی ریاست ہے جو قانون، سیکیورٹی، اور اجتماعی مفاد کو مقدم رکھتی ہے۔ ہر شہری کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، لیکن جب یہ اظہار ریاستی اداروں، قومی سلامتی یا پاکستان کی خودمختاری کے خلاف استعمال ہونے لگے تو یہ آزادی نہیں، بلکہ بدنیتی کہلاتی ہے۔ پچھلے کچھ عرصے سے ایک مخصوص بیانیہ، نہ صرف ملک کے اندر بلکہ بیرونِ ملک بھی، بڑے منظم انداز میں پھیلایا جا رہا ہے — ایک ایسا بیانیہ جو ریاست کو مجرم اور دشمن عناصر کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بیانیہ محض تنقید نہیں بلکہ منظم فتنہ ہے — فتنہ الہندستان۔ اس فتنہ کا چہرہ چند مخصوص افراد ہیں، جن میں ماہ رنگ بلوچ نمایاں ہیں، جنہیں مبینہ طور پر بھارتی، مغربی اور دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی حاصل ہے۔ ان کی سرگرمیوں، بیانات، اور ریاست مخالف رویوں کو انسانی حقوق کی آڑ میں پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
یہ حقیقت اب چھپ نہیں سکتی کہ یہ فتنہ آلہندوستان کی تنظیمیں جیسے بی ایل اے، بی ایل ایف اور بی آر اے انہی پروپیگنڈہ گروہوں کے بیانیے سے تقویت حاصل کرتی ہیں۔ ان تنظیموں کے بیانات اور ان کے حمایتی گروہوں کے دعوے اکثر ایک جیسے ہوتے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ صرف اختلافِ رائے نہیں، بلکہ دشمن کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ جب کوئی فرد ریاستی اداروں کو "قاتل"، "غاصب" یا "دہشتگرد" کہہ کر پکارے اور پھر ان کے خلاف عالمی عدالتوں یا فورمز پر مہم چلائے، تو یہ ایک نظریاتی جنگ کا اعلان ہے، نہ کہ کسی آئینی حق کا استعمال۔
ایڈووکیٹ ایمان مزاری نہ صرف بی وائی سی کی لیڈرشپ کی وکالت کر رہی ہیں بلکہ بی وائی سی جیسے متنازع گروہ کی قانونی، نظریاتی اور میڈیا سطح پر کھل کر حمایت بھی کر رہی ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب بھی ریاست کسی سیکیورٹی بحران سے گزر رہی ہوتی ہے یا قومی سلامتی داؤ پر لگی ہوتی ہے، ایمان مزاری کھل کر ریاست کے خلاف کھڑی ہو جاتی ہیں۔ ان کا یہ رویہ نہ صرف آئینی اداروں کے خلاف ہے بلکہ پوری قوم کے مفاد کے بھی منافی ہے۔ وہ خود کو انسانی حقوق کی علمبردار کے طور پر پیش کرتی ہیں، مگر درحقیقت وہ ایک ایسے بیانیے کو قانونی جواز فراہم کر رہی ہیں جو براہ راست ریاست کی خودمختاری، سلامتی اور آئینی ڈھانچے کو چیلنج کرتا ہے۔ ان کی وکالت کا مقصد انصاف نہیں بلکہ ادارہ جاتی ساکھ کو مجروح کرنا اور دہشت گرد بیانیے کو قانونی پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی نوٹ کرنا اہم ہے کہ جیسے ہی ریاستی ادارے کسی فرد یا تنظیم کے خلاف قانونی یا سیکیورٹی کارروائی کرتے ہیں، فوراً ایک مخصوص لابی متحرک ہو جاتی ہے — قانونی نوٹس، میڈیا کمپین، اور عالمی اداروں کو خط۔ اس سب کا مقصد ایک ہی ہے: ریاست کو مجبور کرنا کہ وہ اپنی رٹ چھوڑ دے۔ مگر پاکستان کی ریاست اور عوام اب اس فتنہ کو پہچان چکے ہیں۔
اب وقت آ چکا ہے کہ ہم آزادیٔ اظہار اور ریاست دشمنی میں فرق کریں۔ جو لوگ بیرونی فنڈنگ، دہشتگردی کی ہمدردی، اور دشمن کے بیانیے کو فروغ دیتے ہیں، انہیں قانون کے کٹہرے میں لانا صرف ریاست کا حق نہیں، بلکہ قومی سلامتی کا تقاضا بھی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ آزادی صرف اسی وقت قائم رہ سکتی ہے جب ریاست مضبوط ہو، اور ریاست اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب اس کے اداروں پر اعتماد ہو۔
پاکستان کے عوام دشمن بیانیوں کو رد کرتے ہیں، اور وہ وقت دور نہیں جب یہ چہرے مکمل طور پر بے نقاب ہوں گے۔ یہ فتنہ آلہندوستان، جسے "حقوق کی تحریک" کے پردے میں چھپایا جا رہا ہے، انجام کو پہنچے گا — قانون، سچائی اور پاکستان کی فتح کے ساتھ۔
~ باشعور بلوچ ~
Comments
Post a Comment