پاکستان: لا الٰہ الا اللہ کی بنیاد پر قائم ہونے والی خوددار ریاست
جہاں پاکستان کا قیام لاکھوں مسلمانوں کی قربانی، ہجرت، اور "لا الٰہ الا اللہ" کے نعرے کی بنیاد پر ہوا، وہیں اسرائیل ایک زبردستی مسلط کی گئی ناجائز ریاست ہے، جو فلسطین کی زمین پر قابض ہو کر ظلم و ستم کی بدترین مثال بن چکی ہے۔ اسرائیل کا قیام کسی الہامی نظریے پر نہیں، بلکہ طاقت، سازش، اور قتل و غارت کے بل بوتے پر ہوا۔ لاکھوں فلسطینیوں کو اُن کے گھروں سے نکالا گیا، بستیوں کو مسمار کیا گیا، اور آج تک نہتے فلسطینیوں پر بمباری، پابندیاں اور انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ اسرائیل درحقیقت دنیا کے مظلوم مسلمانوں پر مسلط کی گئی ایک خونی سازش کا نام ہے، جو مغربی طاقتوں کے اشارے پر پورے مشرق وسطیٰ میں فتنہ، فساد اور تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ اس کا پاکستان جیسے نظریاتی، قربانی پر مبنی اور پرامن ملک سے کوئی تقابل نہ علمی اعتبار سے ممکن ہے اور نہ اخلاقی طور پر جائز۔
پاکستان ایک عظیم قوم ہے، جس نے اپنی مختصر تاریخ میں بے شمار کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ چاہے سائنس ہو یا ایٹمی میدان، زراعت ہو یا کھیل، پاکستان کے نوجوانوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ یہ ملک صرف ایک خطہ زمین نہیں بلکہ کروڑوں مسلمانوں کی اُمید، محبت اور قربانیوں کا مرکز ہے۔
پاکستان کی ہر اکائی اس کی طاقت ہے — پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور بلوچستان۔ خاص طور پر بلوچستان کو نظرانداز کرنے کا پراپیگنڈا بھی محض جھوٹ ہے۔ بلوچستان میں تعلیمی ادارے، سڑکیں، ہسپتال، مواصلاتی نظام، گوادر بندرگاہ، سی پیک جیسے منصوبے اور کئی بڑے ترقیاتی کام ہو چکے ہیں اور مزید جاری ہیں۔ دشمن کو یہی بات کھٹکتی ہے، اسی لیے وہ نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر بھرنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ انہیں ریاست سے بدظن کیا جا سکے۔
بلوچستان، پاکستان کا دل ہے — اور جو فتنہ پرور تنظیمیں جیسے بی ایل اے، بی ایل ایف، وغیرہ اس کو زخمی کرنا چاہتی ہیں، وہ درحقیقت فتنۂ آلہندوستان کا حصہ ہیں۔ یہ وہی بیرونی آلہ کار گروہ ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف پاکستان کو کمزور کرنا ہے۔ یہ گروہ نہ صرف ریاست کے خلاف ہیں، بلکہ بلوچستان کے عام محبِ وطن عوام کے بھی دشمن ہیں۔ یہ وہ عناصر ہیں جنہوں نے ترقی کو روکا، اسکول جلائے، مزدوروں پر حملے کیے، اور بیرونی طاقتوں، خاص طور پر فتنۂ آلہندوستان کے اشاروں پر اپنے ہی لوگوں کو نقصان پہنچایا۔ پاکستان دشمن قوتوں کو بلوچستان کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی، اسی لیے وہ ان فتنہ انگیز گروہوں کے ذریعے وہاں بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ کہنا کہ پاکستان کسی سازش سے بنا، یا برطانیہ نے محض سیاسی تقسیم کی، تاریخ کے ساتھ سنگین مذاق ہے۔ برطانوی راج کے خلاف مسلمانوں نے سب سے بڑی قربانیاں دیں۔ تحریکِ خلافت سے لے کر 1857 کی جنگِ آزادی اور پھر قیامِ پاکستان تک، مسلمان ہمیشہ اپنی شناخت، ایمان اور وقار کے لیے کھڑے رہے۔ پاکستان کی بنیاد نہ لندن میں رکھی گئی، نہ کسی کانفرنس روم میں — بلکہ یہ ان لاکھوں شہیدوں کے لہو سے لکھی گئی جنہوں نے کٹ تو گئے، مگر کفر کی غلامی قبول نہ کی۔
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے ہر دور میں مشکلات کے باوجود اپنی بقاء، ترقی، خودمختاری اور دین کی سربلندی کے لیے جدوجہد کی ہے۔ یہ وہ ملک ہے جس نے لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی، کشمیر کی تحریک کو سپورٹ کیا، ایٹمی طاقت بن کر اسلامی دنیا کی پہلی دفاعی دیوار کا کردار ادا کیا، اور ہر عالمی دباؤ کے باوجود اپنے وقار پر سمجھوتہ نہ کیا۔
سائبر ٹیکنالوجی، معیشت، زراعت، اور دفاع کے میدان میں پاکستان اب بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ دشمن یہی چاہتا ہے کہ ہم اپنے اوپر شک کریں، اپنی بنیادوں کو کھود ڈالیں، اور اپنی پہچان سے منہ موڑ لیں — مگر ہم ایسا ہرگز نہیں کریں گے۔ ہمارا ایمان ہے، ہمارا یقین ہے، اور ہماری تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان ایک نظریہ ہے، ایک پیغام ہے، اور ان شاء اللہ رہتی دنیا تک قائم رہے گا۔
ہمیں یہ یاد رکھنا ہے کہ اصل جنگ بیانیے کی ہے — اور جو لوگ پاکستان کی بنیاد، نظریہ، اور قربانیوں پر سوال اٹھاتے ہیں، وہ درحقیقت اُمت کے اتحاد کو توڑنا چاہتے ہیں۔ ہمیں ہوشیار رہنا ہوگا، نوجوانوں کو حقیقت بتانی ہوگی، اور ہر جھوٹ کا علمی، فکری، اور تاریخی جواب دینا ہوگا۔
پاکستان اللہ کی نعمت ہے، اور اس نعمت کی قدر کرنا، اس کی حفاظت کرنا، اور اس کے دشمنوں کو بےنقاب کرنا ہر محبِ وطن پاکستانی کا فرض ہے۔
پاکستان زندہ باد — نظریۂ پاکستان پائندہ باد۔

Comments
Post a Comment