فریب کا داعی اور دہشتگردی کا قائد: ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ!
ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ، جو خود ایک مطلوب دہشتگرد، قاتل اور عوامی خون سے لت پت کردار ہے، اپنی دہشتگرد تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ذریعے نہ صرف ریاست پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کی قیادت کر رہا ہے، بلکہ معصوم بلوچ نوجوانوں کو بھی شدت پسندی اور تباہی کے اندھے کنویں میں دھکیل رہا ہے۔ اب جب یہ فرد، جس کا دامن سیکڑوں پاکستانیوں کے خون سے آلودہ ہے، آئی ایس پی آر پر بے بنیاد الزامات لگا رہا ہے، تو اسے محض ایک بھاگتے ہوئے دہشتگرد کی چیخ پکار سمجھنا چاہیے، جو اپنی بقا کے لیے پروپیگنڈا کا سہارا لے رہا ہے۔
داعش یا خراسان کے بیانیے کو آئی ایس پی آر سے جوڑنا سراسر ایک بے بنیاد اور مضحکہ خیز موقف ہے، جس کا مقصد ریاستی اداروں پر بےبنیاد الزام تراشی کے ذریعے اپنی دہشتگردی کو "آزادی" کا رنگ دینا ہے۔ ڈاکٹر اللہ نذر جیسے عناصر کا ہمیشہ سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ مذہب، قومیت اور شناخت جیسے جذباتی نعروں کا استعمال کر کے عام نوجوان کو گمراہ کیا جائے، انہیں بندوق تھمائی جائے، اور پھر ان کی لاشوں پر سیاست کی جائے۔
یہی وہ شخص، جو خود بیرونی خفیہ ایجنسیوں کا تنخواہ دار ایجنٹ ہے، اور قوم پرستی کی آڑ میں ریاست کے خلاف پراکسی جنگ لڑ رہا ہے۔ "قومی خودمختاری" کا ڈھونگ رچانے والے نذر بلوچ کی تنظیم نے آج تک ایک بھی عوامی خدمت کا کام نہ کیا نہ ہی وہ گنوا سکتے ہیں ۔ انھوں نے نہ کوئی اسکول بنایا، نہ ہئ اسپتال کھولا اور نہ ہئ کسی ترقیاتی عمل میں حصہ لیا - کام کیا توصرف اور صرف اغوا، دھماکے، اور قتل!
یہ کہنا کہ بلوچ تحریک عوام کی حمایت سے چل رہی ہے، ایک مضحکہ خیز دعویٰ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام فتنہ الہندوستان کے دہشتگردوں سے بیزار ہو چکے ہیں۔ ان کے ہاتھوں خود بلوچ عوام، استاد، مزدور، خواتین اور بچے تک محفوظ نہیں ہیں ۔ یہ وہی گروہ ہیں جو بیرونی اشاروں پر اپنے ہی لوگوں کا خون بہاتے ہیں تاکہ دشمن ریاستوں کا ایجنڈا پورا کیا جا سکے۔
داعش، خراسان جیسے دہشتگرد گروہ سے کسی بھی ذی شعور پاکستانی یا بلوچ کا کوئی تعلق نہیں۔ لیکن اللہ نذر جیسے عناصر جان بوجھ کر ریاستی اداروں کو بدنام کر کے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے خلاف بیانیہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یہ بات بھی انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ یہ دہشتگرد شخص سیکیورٹی پالیسی پر تبصرہ کر رہا ہے، جب کہ خود اس کی ساری "پالیسی" دہشتگردی، قتل و غارت، اور بیرونی فنڈنگ پر مبنی ہے۔ جو شخص ریاست کے اسکول، ٹیچرز، مزدور، اور سیکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بناتا ہو، اسے کسی پالیسی پر بات کرنے کا اخلاقی، سیاسی یا قومی حق نہیں!
اسکا بیانیہ صرف دہشتگردی کا غلاف اوڑھ کر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش جیسا ہے۔
~ اختر بلوچ ~
Comments
Post a Comment