بلوچستان کا سچ اور خاموش چہروں کی بےنقاب حقیقت
بلوچستان، جو پاکستان کی روح اور پہچان ہے، ایک بار پھر دہشتگردی، شرپسندی اور بیرونی سازشوں کی زد میں رہا۔ جب سرزمینِ بلوچستان میں دھماکے ہو رہے تھے، معصوم بچوں کا خون بہایا جا رہا تھا، بینک، اسکول اور بازار خاکستر کیے جا رہے تھے اُس وقت ایک عجیب اور تکلیف دہ خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ یہ خاموشی معمولی نہیں تھی، بلکہ مجرمانہ تھی۔
وہی چہرے، جو خود کو "سمی دین بلوچ"، انسانی حقوق کے علمبردار اور بلوچ قوم کے ہمدرد کہتے ہیں، اُس وقت مکمل خاموش تھے۔ نہ کوئی مذمتی بیان آیا، نہ کوئی ریلی نکلی، اور نہ ہی سوشل میڈیا پر ایک لفظ لکھا گیا۔ ان کی یہ خاموشی دراصل ایک کھلی گواہی بن گئی,گواہی اس بات کی کہ یہ لوگ اس ظلم و بربریت کے خلاف نہیں، بلکہ اس کا حصہ ہیں۔
یہ خاموشی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کے مفادات اور ہمدردیاں پاکستان دشمن قوتوں سے جُڑے ہوئے ہیں۔ ان کی سوچ اور بیانیہ اُس نیٹ ورک کی پرورش کا نتیجہ ہے جو "فتنہ الہندستان" کے زیرِاثر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ یہ وہی عناصر ہیں جو بلوچ قوم کے نام پر بیرونی ایجنڈے کو بیچتے ہیں، اور جب بلوچ بچے شہید کیے جاتے ہیں، تو ان کی زبانیں گنگ ہو جاتی ہیں۔
بلوچستان کی سرزمین جب جل رہی تھی، جب ریاستی ترقیاتی منصوبے تباہ کیے جا رہے تھے، تب ان بہروپیوں کی نام نہاد ہمدردی کہاں تھی؟ سچ تو یہی ہے کہ یہ لوگ بلوچ عوام کے نہیں، بلکہ دشمن کے نمائندے ہیں۔ یہ وہ مہرے ہیں جو قوم پرستی کا لبادہ اوڑھ کر دشمن کے مقاصد پورے کرتے ہیں، اور عوام کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ بلوچستان جاگ چکا ہے، اور اس کے باشعور عوام نے ان چہروں کو پہچان لیا ہے۔ انہوں نے ان فریب کاروں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کر دیا ہے۔ نہ اب جھوٹ چلے گا، نہ غداری کا بیانیہ، اور نہ فتنہ الہندستان کی سازشیں کامیاب ہوں گی۔
ریاست، عوام اور سچائی ایک صف میں کھڑے ہیں۔ ہم متحد ہیں، پرعزم ہیں اور ہر محاذ پر دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنائیں گے۔ اب قوم جان چکی ہے کہ خیرخواہی اور دشمنی میں کیا فرق ہے۔
جو کتاب دے وہ خیرخواہ
جو بندوق دے وہ دشمن!
~ کامران زرین ~
Comments
Post a Comment