کیا افسانے - کیا حقیقت!
کیا
پاکستان، بلوچستان کو کھا رہا ہے یا کِھلا رھا ہے؟
تحریر: شاہد
خان
بلوچستان سے
متعلق کئی افسانے سننے کو ملتے ہیں کہ پاکستان، بلوچستان کے وسائل لوٹ رہا ہے اور
بدلے میں کچھ نہیں دیتا۔ آئیے زمینی حقائق کی بنیاد پر جائزہ لیتے ہیں کہ حقیقت
کیا ہے:
1. گیس
پاکستان میں
گیس کی پہلی دریافت بلوچستان میں ہوئی۔ 1995ء میں بلوچستان پاکستان کی گیس ضرورت
کا 56٪ پیدا کر رہا تھا، لیکن آج کی صورتحال مختلف ہے۔
فی الوقت پاکستان کی روزانہ گیس کی ضرورت 4000 ملین کیوبک فٹ سے زائد ہے جبکہ
بلوچستان اس میں سے صرف 359 ملین کیوبک فٹ، یعنی 9٪ گیس فراہم کرتا ہے۔ اس کا 6٪
بلوچستان خود استعمال کرتا ہے اور صرف 3٪ باقی ملک کو جاتا ہے۔ باقی 91٪ گیس دیگر
صوبے پیدا کرتے ہیں یا درآمد کی جاتی ہے۔
2. تیل
پاکستان روزانہ
ساڑھے پانچ لاکھ بیرل تیل استعمال کرتا ہے، جس میں سے صرف 80 تا 90 ہزار بیرل
مقامی پیداوار ہے — اور وہ بھی بلوچستان سے نہیں۔ بلوچستان میں تیل کی پیداوار صفر
ہے۔ بقیہ تقریباً ساڑھے چار لاکھ بیرل بیرونِ ملک سے خرید کر لایا جاتا ہے، جس میں
بلوچستان کی ضروریات بھی شامل ہوتی ہیں۔ اس درآمدی تیل پر پاکستان کے عوام کے ٹیکس
خرچ ہوتے ہیں، جبکہ ایران اور افغانستان سے ہونے والی تیل اسمگلنگ معیشت کو نقصان
پہنچاتی ہے۔
3. معدنیات:
تانبا اور سونا
بلوچستان میں
موجود سونا اور تانبے کے ذخائر سے متعلق یہ تاثر عام ہے کہ ان کی قدر 500 یا 1000
ارب ڈالر ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان ذخائر کی کان کنی اور پراسیسنگ کی لاگت اتنی
زیادہ ہے کہ بیرونِ ملک سے تانبہ منگوانا یا پرانے تانبے کو ری سائیکل کرنا زیادہ
سستا پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1995ء میں سینڈک منصوبہ بند کیا گیا تھا۔
آج چونکہ کاپر
کی عالمی مانگ اور قیمتیں بڑھی ہیں، اس لیے دوبارہ کام شروع کیا جا رہا ہے۔
- سینڈک: سالانہ
72000 اونس سونا نکالا جا سکتا ہے، جس سے 28 ارب روپے کا منافع ممکن ہے۔
- ریکوڈک: سالانہ
ڈھائی لاکھ اونس سونا نکالنے کی گنجائش ہے، جس سے 100 ارب روپے سالانہ منافع
متوقع ہے۔
لیکن یہ تمام
منصوبے ملا کر بھی 60 تا 70 ارب روپے سالانہ دے سکتے ہیں، جب کہ سیالکوٹ اکیلا
سالانہ 4 ارب ڈالر (تقریباً 1100 ارب روپے) کی برآمدات کرتا ہے۔
4. دیگر
معدنیات
بلوچستان میں
کوئلہ، بیرائٹ، کرومائٹ، جپسم اور ماربل بھی دستیاب ہیں، مگر ان پر حکومت کا کوئی
کنٹرول نہیں۔ مقامی سردار یا افغان افراد ان پر قابض ہیں، اور کوئی وفاقی یا غیر
ملکی ادارہ یہاں سے معدنیات نہیں نکال رہا۔
5. خوراک
بلوچستان 16
لاکھ ٹن گندم استعمال کرتا ہے، جبکہ پیداوار صرف 8.65 لاکھ ٹن ہے۔ باقی گندم پنجاب
و سندھ سے آتی ہے۔
اسی طرح چاول کی ضرورت 10 لاکھ ٹن سے زیادہ ہے، مگر پیداوار صرف 4.98 لاکھ ٹن ہے۔
دودھ، چینی، گھی، کپڑے، دوائیاں اور دیگر اشیاء بھی بلوچستان میں باہر سے آتی ہیں،
یعنی بلوچستان خوراک میں بھی خودکفیل نہیں۔
6. پانی
قیامِ پاکستان
کے وقت صرف 3 لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہوتی تھی۔ اب "کچی کنال" منصوبے کے
تحت بلوچستان کو پنجاب سے پانی مہیا کیا جا رہا ہے، جس سے مزید 7 لاکھ ایکڑ اراضی
سیراب ہوگی۔ یوں بلوچستان کے آدھے زرعی رقبے کو پورا پاکستان پانی فراہم کر رہا
ہے۔
7. بجلی
بلوچستان میں
ہر سال تقریباً 100 ارب روپے کی بجلی چوری ہوتی ہے، جس کا بوجھ وفاقی حکومت برداشت
کرتی ہے۔ مقامی شرپسند یا علیحدگی پسند عناصر نہ تو بل دیتے ہیں اور نہ ریاستی
نظام کا احترام کرتے ہیں۔
8. بجٹ
اور مالی معاونت
مالی سال
2024-25 میں بلوچستان کو وفاق سے 950 ارب روپے ملے، جب کہ اس کی اپنی کمائی محض
200 ارب روپے رہی۔ یعنی ساڑھے 7 سو ارب روپے کا خسارہ باقی صوبوں کے عوام کے ٹیکس
سے پورا کیا گیا۔ سادہ لفظوں میں، بلوچستان باقی ملک کو نہیں کھلا رہا بلکہ خود
وفاقی امداد پر انحصار کرتا ہے۔
نتیجہ
کیا پاکستان
بلوچستان کو لوٹ رہا ہے یا بلوچستان پاکستان سے مستفید ہو رہا ہے؟ حقائق واضح
بتاتے ہیں کہ پاکستان، بلوچستان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے توانائی، خوراک،
پانی، بجلی، اور مالی معاونت مسلسل فراہم کر رہا ہے۔ علیحدگی پسندوں کا بیانیہ محض
گمراہ کن پروپیگنڈا ہے — سچ یہ ہے کہ پاکستان، بلوچستان کو کھلا رہا ہے۔
Comments
Post a Comment