بلوچستان میں دہشتگردی: ریاست، امن اور ترقی کے خلاف ایک منظم جنگ


بلوچستان، پاکستان کا قدرتی وسائل سے مالا مال اور مرکزی حیثیت رکھنے والا صوبہ، ایک بار پھر دہشتگردی کی ہولناک لہ ک نشانہ بنا ہے۔ یکم جولائی 2025 کو مستونگ میں ہونے والا حملہ محض ایک پرتشدد واقعہ نہیں بلکہ ایک گہری اور منظم سازش کا حصہ ہے، جس کا مقصد پاکستان کے داخلی امن کو نقصان پہنچانا، ریاستی اداروں کی ساکھ کو مجروح کرنا اور عوام میں خوف کی فضا پیدا کرنا ہے۔


اس بزدلانہ کارروائی میں فتنہ آلہندوستان کے پیروکاروں نے عام شہریوں کو نشانہ بنایا۔ اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں ایک سولہ سالہ معصوم بچہ شہید ہو گیا جبکہ آٹھ افراد زخمی ہوئے، جن میں دیگر بچے بھی شامل ہیں۔ ان حملوں کا مقصد صرف جانی نقصان پہنچانا نہیں بلکہ عوام کو خوفزدہ کرنا اور ریاست سے دور کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔


دہشتگردوں نے نہ صرف انسانی جانوں کو نشانہ بنایا بلکہ عوامی ڈھانچے پر بھی بھرپور حملہ کیا۔ تحصیل دفتر، سرکاری گاڑیاں اور تین مقامی مالیاتی ادارے ان کی دہشتگردی کی لپیٹ میں آئے، جس سے نہ صرف بد نظمی پھیلی بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ یہ سب کچھ درحقیقت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کیا گیا، تاکہ ریاستی خدمات کی فراہمی کو روکا جا سکے اور بلوچستان کے عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم کیا جا سکے۔


یہ حملے کسی مقامی ناراضی یا شکایت کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان کے خلاف ایک بین الاقوامی سطح کی منظم مہم کا حصہ ہیں۔ دستیاب شواہد اور حملوں کے تسلسل سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ دہشتگرد عناصر بھارت کی خفیہ تنظیم "را" کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں۔ انہیں مالی مدد، تربیت اور نظریاتی رہنمائی فراہم کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان کے اندر بدامنی کو ہوا دی جا سکے اور ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کیا جا سکے۔


اس کے علاوہ صہیونی مفادات اور ہندوتوا نظریات کے حامل عناصر کا باہمی گٹھ جوڑ اب کسی سے پوشیدہ نہیں۔ان فتنہ الہندستان جیسے گروہوں کی سرگرمیاں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ ان غیر ملکی طاقتوں کا ہدف امتِ مسلمہ کو تقسیم کرنا اور پاکستان کو غیرمستحکم بنانا ہے۔ یہ سب کچھ ایک سوچے سمجھے عالمی منصوبے کے تحت ہو رہا ہے، جس میں میڈیا، سیاسی لابی اور مسلح گروہوں کو بطور ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے۔


ان سنگین خطرات کے باوجود پاکستان کی ریاستی قوتیں بھرپور مستعدی سے میدان میں موجود ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لیا اور کچھ دہشتگردوں کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ خفیہ معلومات کی بنیاد پر منظم کارروائیاں جاری ہیں، جن کا مقصد ان دہشتگرد نیٹ ورکوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ان کے غیر ملکی سرپرستوں کو بےنقاب کرنا ہے۔


یہ دہشتگرد حملے دراصل ایک کثیر الجہتی جنگ کا حصہ ہیں، جو پاکستان کی خودمختاری، امن اور ترقی کو ہدف بنا کر لڑی جا رہی ہے۔ شہریوں کو نشانہ بنانا، سرکاری اداروں کو تباہ کرنا، اور ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنا ، یہ سب کچھ بین الاقوامی اصولوں اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔


ریاست پاکستان پوری قوت کے ساتھ ان سازشوں کا مقابلہ کر رہی ہے اور یہ عزم رکھتی ہے کہ بلوچستان کو امن، ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن رکھے گی۔ دشمن کے ناپاک ارادے ناکام ہوں گے، اور پاکستان اپنی خودمختاری، سالمیت اور قومی یکجہتی کا دفاع ہر قیمت پر کرے گا۔


~ باقرعلی ~

Comments

Popular posts from this blog

بلوچستان میں بدامنی اور ریاست کا غیر متزلزل عزم

دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ نہیں: تحصیل زہری میں آپریشن کی حقیقت

No Safe Haven for Terror: The Truth Behind the Operation at Zehri