زہری آپریشن: دہشتگردی کے مدّاحوں کی عیاری بےنقاب - ریاست کا بھرپور عزم کا اظہار
زہری میں جاری سکیورٹی آپریشن کے حوالے سے پچھلے دنوں سامنے آنے والی خبروں اور الزامات نے ایک بار پھر اس قدرِ حساس موقع پر جذبات کو بھڑکانے کی کوشش کی ہے جس کا فائدہ صرف وہی اٹھاتے ہیں جو تشدد، دہشتگردی اور فرقہ وارانہ نفرت کو جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی اور بعض حلقے جو زہری کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، ان کی فکری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ الزام تراشی سے پہلے حقائق طلب کریں، اور دہشت گرد بیانیے کی مدد نہ کریں۔
سب سے پہلے یہ واضح کیا جانا چاہیے کہ ریاست کا بنیادی فرض اپنے شہریوں کی سلامتی اور جانی تحفظ فراہم کرنا ہے۔ جب کسی علاقے میں ایسے مسلح عناصر کارکن و عام لوگوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ بن جائیں، تو قانون نافذ کرنے والے ادارے فعال اقدامات کرنے کے پابند ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست غیر احتیاطی، غیرشفاف یا غیر ذمہ دارانہ طریقوں کو اپنائے؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست قانون، احتیاط اور شفافیت کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دے۔
بے بنیاد پروپیگنڈہ بمقابلہ ثبوت طلبی
خام خیال دعووں اور سوشل میڈیا ویڈیوز کی بنیاد پر نتیجہ اخذ کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ دہشت گرد عناصر کے ایجنڈے کو بھی تقویت دیتا ہے۔ اگر کسی کے پاس آپریشن کے دوران ہونے والے مبینہ تشدد کے ٹھوس شواہد ہیں تو وہ فوراً متعلقہ عدالتی اور تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش کریں۔ ریاستی ادارے شفاف تحقیقات اور خود احتسابی کے حامی ہیں؛ مگر شواہد کے بغیر اشتعال انگیزی صرف فرقہ وارانہ تشنج بڑھاتی ہے۔
شہری تحفظ، امداد اور انسانی ہمدردی اولین ترجیح
سیکورٹی آپریشنز میں شہریوں کی حفاظت اولین شرط ہوتی ہے۔ جہاں ضرورت ہو طبی امداد، خوراک اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جاتی ہے۔ ریاست کا یہ فرض ہے کہ متاثرین کو بروقت ریلیف دیا جائے اور ضرورت کے مطابق انسانی ہمدردی کی رسائی ممکن بنائی جائے۔ اگر کہیں کمی محسوس ہوتی ہے تو اس کا حل عدالتی، انتظامی اور سیاسی مکالمے کے ذریعے نکالا جانا چاہیے نہ کہ بےبنیاد پروپیگنڈا کے ذریعے۔
دہشت گردی کے حامی - قابلِ ملامت، قابلِ سزا
جو گروہ یا افراد تشدد و انتہا پسندی کے حامی ہیں یا ان کی سرپرستی کرتے ہیں، وہ نہ صرف قانون کی نظر میں جرم کے مرتکب ہیں بلکہ وہ مقامی امن اور ترقی کے دشمن بھی ہیں۔ ایسے عناصر کا بیانیہ عوامی رائے کو زہریلا کرتا ہے، نوجوان نسل کو غلط راہ دکھاتا ہے اور معصوم زندگیاں تباہ کرتا ہے۔ ریاست کا عزم واضح ہے: دہشت گردی کے مرتکب عناصر کو صرف طاقت سے نہیں بلکہ قانون کے ذریعے بھی جڑ سے ختم کیا جائے گا۔
جامع حکمتِ عملی - فوجی، قانونی اور سماجی ردعمل
دہشت گردی کا خاتمہ محض فوجی کارروائی سے ممکن نہیں۔ ریاست کو ایک مربوط حکمت عملی اپنانا ہوگی جس میں شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ؛ متاثرہ علاقوں کے لیے فوری طبی و خوراک کی فراہمی اور روزمرہ زندگی کا آغاز۔

Comments
Post a Comment