منتخب
مظلومیت: جب صرف مخصوص لاشیں خبر بنتی ہیں
مقدمہ
ہم
جس عہد میں جی رہے ہیں وہاں خبر کی قدر اس کی سچائی سے نہیں بلکہ اس کی مطابقتِ
بیانیہ سے طے ہوتی ہے۔ میڈیا اب محض اطلاع کا ذریعہ نہیں رہا بلکہ احساسات کی درجہ
بندی کرنے والا ایک فلٹر بن چکا ہے—جو طے کرتا ہے کہ کون سا درد قابلِ توجہ ہے اور
کون سا لاشعوری طور پر دفن کر دیا جائے۔
اسی فلٹر کا نام ہے منتخب مظلومیت
ایک
ایسا رجحان جس میں کچھ لاشیں سرخیاں بنتی ہیں، جبکہ باقی صرف اعداد و شمار رہ جاتی
ہیں۔
مظلومیت
کا انتخاب کیسے ہوتا ہے؟
جب
عام شہری، مزدور، اساتذہ، بچے یا مسافر دہشت گردی کا نشانہ بنتے ہیں تو خاموشی چھا
جاتی ہے۔ نہ ٹکرز چلتے ہیں، نہ اداریے لکھے جاتے ہیں، نہ انسانی حقوق جاگتے ہیں۔
لیکن جیسے ہی کوئی مسلح فرد، سہولت کار یا شدت پسند کسی
کارروائی میں مارا جائے، اچانک لفظ بدل جاتے ہیں—
“ماورائے عدالت قتل”
“ریاستی جبر”
“ایک اور مظلوم نوجوان”
یہ
فرق حادثاتی نہیں بلکہ دانستہ ہے۔ یہاں لاش کی شناخت نہیں، اس کا سیاسی مصرف دیکھا
جاتا ہے۔
لاش
بطور بیانیہ ہتھیار
منتخب
مظلومیت میں انسانی جان کی قدر یکساں نہیں ہوتی۔ کچھ لاشیں سوال بن جاتی ہیں اور
کچھ صرف شور میں دب جاتی ہیں۔
اے پی ایس کے بچے، بسوں میں جلتے مسافر، بازاروں میں
مارے جانے والے مزدور—یہ سب اس لیے غیر متعلق ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی موت سے
کوئی مخصوص بیانیہ مضبوط نہیں ہوتا۔
اس کے برعکس، مسلح عناصر کی ہلاکت کو ریاست کے خلاف ایک
اخلاقی ہتھیار میں بدل دیا جاتا ہے۔ پس منظر مٹا دیا جاتا ہے، جرم غائب کر دیا
جاتا ہے، اور صرف ایک لفظ بچتا ہے: مظلوم۔
خاموشی
بھی ایک موقف ہے
یہ
کہا جاتا ہے کہ خاموشی غیر جانبداری ہے، مگر حقیقت میں خاموشی اکثر شراکت ہوتی ہے۔
جب ایک پلیٹ فارم بار بار ایک ہی قسم کے مرنے والوں پر
نوحہ کرے اور باقی سب پر منظم خاموشی اختیار کرے، تو وہ صحافت نہیں بلکہ بیانیاتی
صف بندی کر رہا ہوتا ہے۔
یہاں سوال یہ نہیں کہ کون مرا، بلکہ یہ ہے کہ کس کے مرنے
پر سوال اٹھانا فائدہ مند ہے۔
انسانی
حقوق یا سیاسی سہولت؟
اگر
انسانی حقوق واقعی غیر جانبدار ہوتے تو سوالات سب کے لیے برابر ہوتے۔
کیا غریب مزدور کا قتل انسانی حق کی خلاف ورزی نہیں؟
کیا بس میں جلتے بچے انسان نہیں؟
کیا بازار میں مارا جانے والا پولیس اہلکار کسی ماں کا
بیٹا نہیں؟
منتخب
مظلومیت ان سب سوالوں کو غیر ضروری قرار دے دیتی ہے کیونکہ ان کے جواب سے وہ کہانی
بکھر جاتی ہے جو بیرونی سرپرستوں، سیاسی پناہ، اور فنڈنگ کے دروازے کھولتی ہے۔
نتیجہ
منتخب
مظلومیت دراصل انسانی ہمدردی کی نجکاری ہے—جہاں درد کو بھی شناختی کارڈ دکھانا
پڑتا ہے۔
یہ رویہ نہ صرف سچ کو مسخ کرتا ہے بلکہ معاشرے کی اخلاقی
سمت بھی بگاڑ دیتا ہے۔ جب صرف مخصوص لاشیں خبر بنتی ہیں تو باقی انسان آہستہ آہستہ
غیر مرئی ہو جاتے ہیں۔
اصل
سوال یہ نہیں کہ کون مظلوم ہے، بلکہ یہ ہے کہ
کون مظلوم بننے کے قابل سمجھا جاتا ہے؟
اور
یہی سوال اس پورے بیانیے کی کمزوری کو عیاں کر دیتا ہے، کیونکہ جہاں انسانیت کو
انتخابی بنا دیا جائے وہاں صحافت نہیں، صرف پروپیگنڈا باقی رہ جاتا ہے۔
Comments
Post a Comment