نام نِہاد صحافت یا انفارمیشن وارفیئر

مقدمہ

ہم ایک ایسے دور میں زندہ ہیں جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کی شکل بدل دی ہے، میڈیا ریاست کا ایک کلیدی ستون بن چکا ہے اور صحافت کسی بھی معاشرے کے لیے گیم چینجر کی حیثیت رکھتی ہے۔

لیکن جب حقائق کو دفن کر دیا جائے اور بیانیے کو ہتھیار بنا لیا جائے تو صحافت عوامی خدمت نہیں رہتی بلکہ تصادم کا ایک آلہ بن جاتی ہے۔ بلوچستان کے اطلاعاتی منظرنامے میں دی بلوچستان پوسٹ اور اس نوعیت کے دیگر پلیٹ فارمز خود کو اختلافِ رائے کی آواز یا آزاد نگران کے طور پر پیش کرتے ہیں، مگر عملی طور پر یہ ایک وسیع تر ہائبرڈ وارفیئر ایکو سسٹم کا حصہ بن کر سیاسی آلات کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

ان کی اہمیت سچائی، تحقیقی دیانت یا احتساب سے نہیں بلکہ تحریف سے قائم ہے۔ شکایت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، سیاق و سباق کو مٹانا اور دہشت گردی پر منظم خاموشی اختیار کرنا ان کی پہچان ہے۔ یہ ناقص صحافت کا حادثہ نہیں بلکہ ایک مقصد کے تحت تیار کردہ بیانیاتی انجینئرنگ ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ یہ پلیٹ فارمز جانبدار ہیں یا نہیں بلکہ یہ ہے کہ کیا ان کے طرزِ عمل کو ایمانداری سے صحافت کہا جا سکتا ہے؟

صحافت یا فیک جنرلزم
اس پورے نظام کو ایک واضح حربہ متعین کرتا ہے فیک جنرلزم یعنی جعلی عمومیت کہا جا سکتا ہے۔ اس طریقۂ کار میں پیچیدہ حقائق کو مبہم الزامات میں بدل دیا جاتا ہے۔ دہشت گردی کو غیر واضح تنازع بنا دیا جاتا ہے، مجرم گمنامی میں چھپ جاتے ہیں اور ذمہ داری اس طرح منتشر کی جاتی ہے کہ احتساب کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔ ہر دہشت گرد کے خاتمے کو فوراً ریاستی جبر کیوں قرار دیا جاتا ہے؟ حملہ آوروں کے نام غائب ہوتے ہیں مگر ادارے ہمیشہ کٹہرے میں کیوں کھڑے ہوتے ہیں؟ عام شہریوں کو پس منظر میں دھکیل کر مسلح عناصر کو علامت کیوں بنایا جاتا ہے؟ یہ لاعلمی نہیں بلکہ دانستہ ابہام ہے جس کا مقصد اخلاقی فیصلے کو مفلوج کرنا ہے۔

حقیقی صحافت میں ظلم کی مذمت یکساں ہوتی ہے، مگر دہشت گردمیڈیا میں یہ اصول لاگو نہیں ہوتا۔ اے پی ایس خضدار میں بچوں کا قتل ہو، جعفر ایکسپریس کے مسافروں کو نشانہ بنایا جائے یا آواران میں جمعہ کے دوران مارٹر داغے جائیں، ان واقعات پر خاموشی چھا جاتی ہے۔ نہ تحقیق، نہ اداریے اور نہ احتساب کا مطالبہ۔ اس کے برعکس جب ریاست ردِعمل دیتی ہے اور سیکیورٹی فورسز خونریزی روکنے کے لیے قدم اٹھاتی ہیں تو شور فوری اور منظم ہو جاتا ہے۔ یہ عدم توازن خود حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کیونکہ ایسی خاموشی غیر جانبداری نہیں بلکہ تائید ہوتی ہے۔

اس سارے سلسلے کو فیک جنرلزم یعنی جعلی عمومیت تو کہا جا سکتا ہے، مگر جرنلزم یعنی صحافت نہیں۔

 حقائق کی توڑ مروڑ، ایک معمول

اب یہ بیانیاتی چکر ایک معمول بن چکا ہے۔ پہلے عام شہریوں یا عوامی تنصیبات پر حملہ کیا جاتا ہے، پھر حملہ مطلوبہ اثر پیدا کرنے میں ناکام رہتا ہے، اس کے بعد چند گھنٹوں میں الزام ریاست پر منتقل کر دیا جاتا ہے اور گمنام عینی شاہدین، پرانی تصاویر اور غیر مصدقہ دعوے گردش میں آ جاتے ہیں۔ سوال سادہ ہے مگر فیصلہ کن ہے کہ اگر ریاست کو استحکام سے فائدہ ہے تو انتشار سے فائدہ کس کو پہنچتا ہے۔ آواران جیسے واقعات اس لیے اہم ہیں کہ ان میں حقائق کو کس تیزی سے الزامات میں بدلا جاتا ہے۔ مقصد سچ نہیں بلکہ دہشت گردی کے لیے بیانیاتی پردہ فراہم کرنا ہوتا ہے۔

یہ کیسی صحافت ہے جس کا کام صرف جھوٹے لیبل لگانا ہے؟

کون سی صحافت سڑکوں، اسپتالوں اور روزگار سے خوفزدہ ہوتی ہے؟ بلوچستان میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے انٹرن شپ پروگرامز، وزیرِاعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ اقدامات، ریکوڈک شراکت داری، قومی شاہراہوں کی توسیع ، بلوچستان اسپیشل ڈیولپمنٹ انیشی ایٹو پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت اسٹیڈیمز کی تعمیر، آواران کلچرل فیسٹیول، اور پاک-چین فرینڈشپ ہسپتال جیسے منصوبے ٹھوس اور قابلِ پیمائش پیش رفت کی عکاسی کرتے ہیں۔کچھ سوالات براہِ راست پوچھے جانے چاہئیں۔ کیا بھتہ خوری مزاحمت ہے؟ کیا زیادتی انقلاب ہے؟ کیا غریب مزدوروں کا قتل آزادی ہے؟ یہ جرائم ثابت شدہ اور بار بار دہرائے گئے ہیں۔ ان کے سامنے آتے ہی دہشت گرد گروہوں کی حمایت کم ہوئی ہے اور یہی کمی اس بیانیے کی بوکھلاہٹ کی اصل وجہ ہے۔ تضاد خود فیصلہ سنا دیتا ہے۔

اگر ضمیر صاف ہو تو فنڈنگ خفیہ کیوں ہوتی ہے؟ غیر ملکی سرمائے کے ساتھ ادارتی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ سیاسی پناہ کے نظام میں مبالغہ شدہ مظلومیت کی قیمت ملتی ہے۔ یوں غصہ ایک کرنسی بن جاتا ہے اور سچ غیر ضروری بوجھ۔ اسی لیے آواران جیسے واقعات پر مذمت نہیں کی جاتی کیونکہ مذمت اس کہانی کو نقصان پہنچاتی ہے جو بیرونی سرپرستوں کو بیچی جاتی ہے۔

نتیجہ
تصویر بالکل واضح ہے۔ مارٹر پراکسی عناصر داغتے ہیں اور زخمیوں کا علاج فوجی ڈاکٹر کرتے ہیں۔ یہاں تک کہ انسانی خدمت کو بھی پروپیگنڈا قرار دیا جاتا ہے۔ جب شفا کو جرم بنا دیا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ مسئلہ طاقت نہیں بلکہ حقیقت ہے۔ اگر انسانیت بھی ناقابلِ قبول ہو جائے تو سچ کہاں بچے؟
جب ان کے دعوے تنقیدی جانچ پر بکھرنے لگتے ہیں تو یہی عناصر جعلی حملوں، فرضی گھات لگا کر کارروائیوں اور مبینہ اغوا کی اے آئی جنریٹڈ ویڈیوز کا سہارا لینے لگتے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل فریب کاری کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک ایسے بیانیے کی علامت ہے جو حقائق کے بغیر زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جب حقیقت ساتھ چھوڑ دے تو فریب ہی آخری پناہ گاہ بن جاتا ہے۔

آخر میں سوال یہ ہے کہ بلوچ نوجوانوں کا مستقبل کون برباد کر رہا ہے۔ مہارت دینے والا یا بندوق تھمانے والا؟ علیحدگی پسند بیانیہ شناختی الجھن کو ہدف بناتا ہے، مایوسی پیدا کرتا ہے اور تشدد کو وقار کے طور پر بیچتا ہے۔ موقع کو شکایت سے بدل دیا جاتا ہے اور اختیار کو مظلومیت میں دفن کر دیا جاتا ہے۔ اصل المیہ سوال اٹھانا نہیں بلکہ مکمل تصویر سے محروم رکھنا ہے۔

یہ پروپیگنڈا صرف اندھیرے میں زندہ رہ سکتا ہے، منتخب غصے اور منظم خاموشی کے سہارے۔ جیسے ہی اس پر سوال اٹھتے ہیں اس کی ساکھ اور اثر دم توڑنے لگتے ہیں۔ یہ تالیاں بجانے یا اندھی تائید کی دعوت نہیں بلکہ شعور کی اپیل ہے کیونکہ جہاں بیانیے گولی سے پہلے قتل کرتے ہوں وہاں وضاحت خود مزاحمت بن جاتی ہے۔

 

 

  

Comments

Popular posts from this blog

بلوچستان میں بدامنی اور ریاست کا غیر متزلزل عزم

دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ نہیں: تحصیل زہری میں آپریشن کی حقیقت

No Safe Haven for Terror: The Truth Behind the Operation at Zehri