بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے


مقدمہ

سولہ دسمبر پاکستانیوں کے لیے دل دہلا دینے والا دن ہے۔ یہ وہ دن تھا جب دشمن نے سفاکیت کی ساری حدیں پار کر دیں اور معصوم فرشتوں، پاکستان کے مستقبل کو نشانہ بنایا۔ یہاں ان دشمنوں کی نام نہاد جدوجہد کا پردہ بھی فاش ہو گیا، کیونکہ جب وہ ہماری افواج کے ساتھ براہِ راست میدان میں آمنے سامنے مقابلہ نہ کر سکے، تو بیرونی آقاؤں کے ڈالروں کی قیمت معصوم مستقبل کے معماروں کے خون سے وصول کی گئی۔

لیکن زمانہ بڑی ظالم چیز ہے؛ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ ہم پر کیا گزری، وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ ہم نے زخموں کو شکست بنایا یا انہیں نئے عزم میں ڈھال کر آگے بڑھتے رہے۔ پاکستانی قوم نے الحمدللہ درست انتخاب کیا۔ آج دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فتح کی سمت بڑھ رہی ہے۔ ان معصوم پھولوں کی صدائیں ہمیں کبھی دشمن کے سامنے شکست قبول نہیں کرنے دیں گی۔

آج کا دن نئے عزم کا دن ہے۔

لیکن یہ لوگ کون ہیں جو آزادی یا جدوجہد کے نام پر بچوں کو قتل کر رہے ہیں؟

پاکستان کو توڑنے کے تین حربے: زمین، نسل اور ذہن

پاکستان ہمارا محبوب وطن ہے، جو مختلف قومیتوں، زبانوں اور ثقافتی روایات کا حسین امتزاج ہے۔
ہم تنوع میں اتحاد پر فخر کرتے ہیں، لیکن خطے میں اسٹریٹیجک اہمیت کی وجہ سے دشمن نے ہمیشہ ہماری کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اس وحدت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ دشمن کے کچھ حربے درج ذیل ہیں:

زمین

آج کل آپ کو کچھ افراد بلوچ علاقے کی علیحدہ ملکیت کی بات کر کے اور صدیوں سے اس علاقے کی خصوصی حیثیت کا ذکر کر کے عام عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ تو آئیے اس صوبہ بلوچستان کی تاریخ کا جائزہ لیتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ آج جس بلوچستان کو ایک متحد صوبہ کہا جاتا ہے، وہ
۱۹۷۰ء سے پہلے کبھی ایک واحد سیاسی اکائی نہیں رہا۔ برطانوی دور میں یہ علاقہ مختلف انتظامی حصوں اور ریاستوں میں منقسم تھا، جن میں چیف کمشنر صوبہ بلوچستان اور قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ جیسی ریاستیں شامل تھیں۔ قلات بھی کوئی جدید قومی ریاست نہیں بلکہ ایک ڈھیلا ڈھالا قبائلی اتحاد تھا، جہاں مرکزی ریاستی ڈھانچے کے بجائے سرداری نظام غالب تھا۔
قیامِ پاکستان کے بعد بھی یہ خطہ مختلف انتظامی تجربات سے گزرا، یہاں تک کہ یکم جولائی
۱۹۷۰ء کو پاکستان نے بلوچستان کو ایک باقاعدہ، متحد اور آئینی صوبے کی شناخت دی۔ آج وہی عناصر، جو اسی ریاست کی بدولت شناخت، آئینی حیثیت اور سیاسی آواز حاصل کر سکے، اسی ریاست کے خلاف نفرت اور علیحدگی کا بیانیہ بیچ رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ وہ کرائے کے نمائندے کون ہیں جو ہمیں اسی وحدت سے کاٹنا چاہتے ہیں جس نے ہمیں ایک پہچان دی؟

نسل

پاکستان کلمۂ طیبہ کی بنیاد پر وجود میں آیا، جہاں نسل، زبان اور قبیلے نہیں بلکہ ایمان نے لوگوں کو ایک قوم بنایا۔
ڈاکٹر آرتھر شوپن ہاور کے الفاظ میں:
جن کے پاس فخر کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا، وہ اپنی نسل پر فخر کرنے لگتے ہیں۔

لیکن مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ جس نسلی وحدت کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، اس کی حقیقت خود اس دعوے کی نفی کرتی ہے۔
 دو ہزار سترہ کی مردم شماری کے مطابق بلوچستان میں کوئی ایک نسلی یا لسانی اکثریت موجود نہیں:
بلوچی بولنے والے تقریباً 35.5 فیصد،
پشتو بولنے والے تقریباً 35.3 فیصد،
اور براہوی بولنے والے تقریباً 10.6 فیصد ہیں۔

مہرنگ جو خود کو بلوچ کہتی ہے، درحقیقت لانگو یعنی براہوی ہے۔
کیا یہ آزادی ہے ؟

ذہن

آج کی جنگ میں سب سے بڑا ہتھیار بیانیہ ہے، اور دشمن یہ جانتا ہے کہ اگر آمنے سامنے مقابلہ ہوا تو سات جہاز تو صرف ابتدا ہوں گے۔ لہٰذا وہ کرائے کے دہشتگردوں اور جھوٹے بیانیوں کے ذریعے ذہنوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

انیس سو سینتالیس سے پہلے بلوچستان میں بنیادی ڈھانچے کی حالت یہ تھی کہ پورے وسیع خطے میں پچاس سے بھی کم اسکول موجود تھے، تعلیمی ادارے نہایت محدود تھے اور صحت کی سہولیات چند گنے چنے فوجی یا سول اسپتالوں تک محدود تھیں جو زیادہ تر کوئٹہ میں قائم تھے۔ آج اسی بلوچستان میں تیرہ ہزار پانچ سو سے زائد اسکول، ایک ہزار چار سو پچاس سے زیادہ صحت کے مراکز بشمول انچاس سرکاری اسپتال، گیارہ سرکاری جامعات اور درجنوں کالجز موجود ہیں، جبکہ دو ہزار آٹھ سو کلومیٹر سے زائد قومی شاہراہوں اور سی پیک جیسے منصوبوں نے صوبے کو قومی معیشت سے مضبوطی سے جوڑ دیا ہے۔

اس کے باوجود بھارت، ایران اور برطانیہ میں بیٹھے جعلی اکاؤنٹس اور خود ساختہ صحافی کبھی ان ترقیاتی حقائق کا ذکر نہیں کرتے۔ ان کی نام نہاد صحافت لاشوں پر جھوٹے لیبل چپکانے تک محدود ہے، کیونکہ سچ ان کے بیانیے کو دفن کر دیتا ہے۔

 کیا بلوچ شناخت کی حفاظت تعلیم سے ہوتی ہے یا اسکول جلانے سے؟

یہ سوال پوچھنا بہت اہم ہے، کیونکہ اسی سے ان درندوں کی حقیقت سامنے آتی ہے۔
یہ کون سی آزادی ہے جو نوجوانوں کو تعلیم سے دور کر کے پہاڑوں میں نکل جانے کی ترغیب دیتی ہے؟
یہ کیسی جدوجہد ہے جس میں آرمی پبلک اسکول خضدار کے معصوم پھولوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے؟
انسانی حقوق اس وقت کیوں خاموش ہو جاتے ہیں جب ان حملوں کی مذمت کرنی ہوتی ہے؟
یہ کرائے کے صحافی اس وقت کہاں ہوتے ہیں جب فتنہ الہندوستان معصوم بچوں کو نشانہ بناتا ہے؟

یہ سوالات کسی جذباتی نعرے نہیں، بلکہ ایک پورے جھوٹے بیانیے کے تابوت میں آخری کیل ہیں۔

ان کے نام جنہوں نے ہمیں رُلایا ضرور مگر ہرا نہیں سکے

آج قوم بیدار ہے، باشعور ہے اور دشمن کی ہر چال سے آگاہ ہے۔
ہمارے بچوں اور ہمارے مستقبل پر ہونے والے حملے کبھی فراموش نہیں کیے جائیں گے، اور ہم عہد کرتے ہیں کہ ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ ژوب، قلات اور آواران میں سیکیورٹی فورسز کی حالیہ کارروائیاں اس عزم کا واضح ثبوت ہیں کہ ریاست اب کسی فتنہ گر کو مہلت دینے کے موڈ میں نہیں۔

پاکستان امید، حوصلے اور یقین کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔
اور آخر میں وہی دعا جو اس قوم کے دل کی آواز ہے
:

خدا کرے میری ارضِ پاک پر اُترے وہ فصلِ گل
جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

 

 

Comments

Popular posts from this blog

بلوچستان میں بدامنی اور ریاست کا غیر متزلزل عزم

دہشت گردوں کے لیے کوئی پناہ نہیں: تحصیل زہری میں آپریشن کی حقیقت

No Safe Haven for Terror: The Truth Behind the Operation at Zehri