بھارت نواز پراکسیز کی سازشیں اور باہر بیٹھے فراڈیے
بھارت نواز پراکسیز کی سازشیں اور باہر بیٹھے فراڈیے!
بلوچستان ایک ایسی سرزمین ہے جو قدرتی وسائل، ثقافتی ورثے اور انسانی صلاحیتوں سے مالا مال ہے، مگر بدقسمتی سے آزادی سے پہلے کے تمام حکمران اسے صرف” بفر زون” سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار نہ تھے۔ پاکستان نے اپنی اِس رنگا رنگ وحدت کے اندر بلوچستان کی ترقی کا بیڑا اٹھایا تو یہ منظر اُن دشمنوں کے لیے کسی بھیانک خواب سے کم نہ تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر بلوچستان اپنی اصل صلاحیت پر کھڑا ہوگیا تو خطے کی سیاست بدل جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ خطہ بیرونی مداخلت اور جھوٹے پروپیگنڈے کا مرکز بنا ہوا ہے۔
طرح طرح کی کہانیاں گھڑ کر عوام کو حقیقت سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے، مگر ان میں زیادہ تر ایسی بے وزن اور عجیب من گھڑت باتیں ہیں جن پر ہنسی بھی آتی ہے اور افسوس بھی۔ انہی میں سے ایک مضحکہ خیز کہانی وہ ہے جس میں محبِ وطن سرکاری ملازمین، جو بلوچستان کے عوام کے لیے احترام اور خدمت کا جذبہ لیے کھڑے ہیں، انہیں بھیڑیےکہہ کر پکارا گیا — یہ لفظ نہیں، ان عناصر کی گھٹتی ہوئی زمین اور بڑھتی ہوئی گھبراہٹ کی علامت ہے۔ بلوچستان ترقی کر رہا ہے، اصل مسئلہ یہی ہے۔
عوام کی آسانی کے لیے آئیے چند بنیادی سوالات کے ذریعے اس پروپیگنڈے کو کھول کر دیکھتے ہیں.
ریاستی اداروں
کی پُرامن
سرگرمیوں پر
اتنے مروڑ
کیوں اٹھ
رہے ہیں؟
بلوچستان کا خطہ طویل عرصے سے مختلف مسائل کا شکار ہےشرحِ خواندگی ابھی 54 فیصد کے آس پاس ہے.
سڑکوں اور انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے، روزگار کی کمی ایک حقیقت ہے، جبکہ امن و امان کے چیلنجز سب کے سامنے ہیں۔ مگر حیرت انگیز طور پر سب سے بڑا "خطرہ" ان عناصر کو ایک پُرامن ثقافتی فیسٹیول سے محسوس ہوتا ہے، جس کا مقصد دراصل انہی مسائل کے حل کی طرف قدم بڑھانا ہے۔
اگر احتجاج پر واویلا کرنا ہی ہے تو پھر بی وائی سی کے ان مظاہرین پر کیوں نہیں جنہوں نے بارہا شاہراہیں بلاک کر کے عام لوگوں کے قیمتی وقت، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو نقصان پہنچایا؟
کیا سڑک بند کرنا "سیاسی شعور" ہے؟
اور یہ عجیب معیار دیکھئے کہ سانحہ جعفر ایکسپریس کے سفاک دہشتگردوں کی لاشوں کے لیے نکالے گئے ڈھونگ بھرے احتجاج کو امن کے لیے خطرہ نہیں کہا جاتا، مگر بچوں کے تعلیمی اداروں میں ایک ثقافتی سرگرمی سب سے بڑا مسئلہ بن جاتی ہے؟
جو کام امن کو مضبوط کرے وہ انہیں خطرہ لگتا ہے اور جو انتشار پھیلائے وہ ’تحریک‘ کہلاتا ہے۔
آخر میں صرف ایک جملہ کافی ہے
ڈی پولیٹیسائزیشن کا
اصل ذمہ
دار کون؟
ریاست یا
نام نہاد
’’آزادی
کے مجاہد‘‘؟
یہ شاید سب سے بچگانہ اور مضحکہ خیز الزام ہے کہ ریاستی مثبت سرگرمیوں کو "ڈی پولیٹیسائزیشن" کہا جائے، مگر دہشتگردوں کے جرائم کو "سیاسی جدوجہد"۔
اگر ریاست کے تعاون کو ’’غیر سیاسی بنانا‘‘ کہا جاتا ہے،
تو پھر عورتوں کو بلیک میل کرنا، خوف و ہراس اور ریپ کی دھمکیوں کے ذریعے انہیں خودکشی پر مجبور کرنا—کیا یہ ’’اختیار‘‘ ہے؟
کیا یہ بااختیاری ہے جب بے گناہ دکانداروں، ٹرانسپورٹرز اور عام محنت کشوں سے بی ایل اے بھتہ وصول کرتی ہے؟
کیا یہ بااختیاری ہے جب بی ایل اے اُن بلوچوں کو قتل کرتی ہے جو اپنی عقل، شعور اور حقیقت کا ساتھ دیتے ہوئے ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے ہوں؟
محبت، احترام، امن، خدمت — یہ سب ’’جرم‘‘
اورقتل، بھتہ، ریپ، بلیک میلنگ — یہ سب ’’مزاحمت‘‘؟
حیرت تو یہ ہے کہ:
مزید وضاحت کی ضرورت نہیں—تصویر خود بول رہی ہے۔
اگر یہ
پُرامن کاوشیں
نہیں تو
پھر کیا؟
یہ سوال نہایت اہم ہے، کیونکہ اگر ثقافتی فیسٹیول، اوپن کچہریاں، ترقیاتی منصوبے، سڑکیں، اسکول، یونیورسٹیاں اور صحت کی سہولیات سب "نفسیاتی جنگ" کے ہتھیار ہیں…
تو پھر ترقی کا راستہ آخر ہے کیا؟
یا سیاسی شعور اسی وقت اترے گا جب نوجوان قلم چھوڑ کر پہاڑوں میں چلے جائیں؟
یا پھر بی وائی سی کے کیمپوں میں، جہاں ’’اللہ نذر‘‘ جیسے درندے نشہ پلا کر بلوچ بیٹیوں کی عصمتیں پامال کرتے ہیں — کیا وہ سیاسی شعور ہے؟
حقیقی خیرخواہ وہ ہے جو اسکول بنائے، سڑکیں بچھائے، روزگار دے، امن لائے —
نہ کہ وہ جو بیرونی ڈالرز کے لیے بلوچ نوجوانوں کو بندوق کا ایندھن بنائے۔
کیا بلوچ عوام کو سیاسی شعور ٹائروں کو آگ لگا کر ملے گا؟
تھوڑی سی تحقیق، تھوڑا سا انصاف… اور بات واضح ہوجاتی ہے
بلوچ معیار
کی حقیقت
اور پاکستان
سے جُڑا
اس کا
گہرا رشتہ
اختتام سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بلوچ معیار ہے کیا؟
بلوچ معیار وہ اخلاقی اقدار ہیں جو عزت، غیرت، مہمان نوازی، وفاداری اور سچائی کو مرکزی حیثیت دیتی ہیں — یعنی ایک باوقار اور شریف انسان کا ضابطۂ اخلاق۔
لہٰذا بلوچ معیار دراصل پاکستانیّت کا روشن عکس ہے۔
اور یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ اقدار صرف بلوچوں تک محدود نہیں، بلکہ پنجاب میں ’’پنجابیت‘‘، سندھ میں ’’سندھیّت‘‘ اور خیبرپختونخوا میں ’’پشتونولی‘‘ کی صورت میں اتنی ہی شدت کے ساتھ موجود ہیں۔
مگر افسوس کہ جو عناصر خود کو “آزادی کے سپاہی” کہتے ہیں، وہ انہی اقدار کی بدترین پامالی کرتے ہیں جن کا پرچار کرتے ہیں
میل، نشہ آور ادویات اور دھمکیوں کے ذریعے تباہ کر دیا گیا۔
نتیجہ
اور یہ قوم کبھی بھی آزادی کے نام پر دھوکہ بیچنے والے فراڈیوں کے ہاتھ نہیں چڑھ سکتی۔
ایک طرف وہ “آزادی کے ٹھیکیدار” ہیں جو جھوٹ بیچتے ہیں، نوجوانوں کو استعمال کرتے ہیں، خود باہر عیش کرتے ہیں، اور بلوچستان کے بیٹوں کا خون بیچ کر “فرضی جدوجہد” کی دکان چلاتے ہیں۔
اور دوسری طرف بلوچ معیار ہے
جو پاکستانیت کی اصل روح ہے، اور جو ان فراڈیوں کی حرکات سے بالکل الٹ کھڑا ہے۔
ان دھوکے بازوں نے نہ ’’آزادی‘‘ کا معیار پورا کیا،
نہ ’’بلوچ معیار‘‘ کی کسی ایک قدر کو نبھایا۔
پاکستان اور بلوچستان کا سچ صرف ایک ہے
دھوکے باز جتنا بھی بھیڑ کی کھال اوڑھ لیں — بلوچ قوم ان کا بھیڑیا پن ہمیشہ پہچان لے گی۔
جیسا میر گل خان نصیر نے کہا تھا
"بلوچ وہ ہے جو سچ، غیرت اور وفا پر کھڑا ہو — باقی سب تماشا ہے۔"

Comments
Post a Comment