دسمبر:
پاکستانیوں کا یومِ عزمِ نو16
مقدمہ
قوموں
کی تاریخ میں کچھ دن صرف تاریخ نہیں بنتے—بلکہ آئینہ بن جاتے ہیں؛ ایسا آئینہ جو
قوم کے وہ سارے عیب سامنے رکھ دیتا ہے جنہیں ہم برسوں سے نظر انداز کرتے آئے ہوں۔
۔
دسمبر بھی پاکستان کی تاریخ کا ایسا ہی دن ہے16
—وہ
دن جب بھارت کی ناپاک سازشیں کامیاب ہوئیں اور ہم سے ہمارا لختِ جگر جدا ہوگیا۔ یہ
دن ہمیں ہماری کمزوریاں یاد دلاتا ہے، وہ دراڑیں دکھاتا ہے جنہوں نے قوم کو اندر
سے کھوکھلا کیا۔ لیکن غلطی ہمیشہ دو رخ رکھتی ہے
یا تو وہ انجام بن جاتی ہے، یا پھر وہ آغاز بنتی
ہے
وہ
آغاز جہاں درد انسان کو توڑنے کے بجائے فولاد بنا دیتا ہے، جہاں زخم ہار کی نہیں،
دوبارہ اٹھنے کی علامت بن جاتے ہیں۔ پاکستانی قوم نے اسی دوسرے راستے کا انتخاب
کیا۔ ہم گرے ضرور، مگر بکھرے نہیں۔ ہم نے اپنے زخموں پر مرہم بھی رکھا اور اپنے
مستقبل کو تعمیر بھی کیا۔ اسی لیے آج پاکستان ترقی کے سفر پر چل رہا ہے— کبھی دہشت
گردی کے اندھیروں سے لڑ کر، کبھی دشمن کی معاشی اور بیانیاتی سازشوں کو ناکام بنا
کر، اور کبھی اپنی سرحدوں پر دشمن کے غرور کو خاک میں ملا کر۔
دسمبر
اب صرف یاد نہیں16
عزمِ نو کی شروعات ہے۔
سقوطِ ڈھاکہ: زمین ٹوٹ گئی لیکن قوم نہ ٹوٹی
قائداعظم
نے ہمیں پاکستان ایک بے مثال جدوجہد کے بعد دیا— یہ صرف ایک ملک نہیں تھا بلکہ ایک
امید تھی، ایک نظریہ، اللہ کے نام پر قائم ہونے والی واحد جدید ریاست، ریاستِ مدینہ
کے بعد پہلی نظریاتی مملکت۔ 1971 میں دشمن ہماری زمین کا ایک حصہ چھیننے میں کامیاب
ہوگیا، مگر وہ تصورِ پاکستان نہ چھین سکا— کیونکہ نظریات زمین سے نہیں، دلوں سے
جنم لیتے ہیں۔ پاکستان نے سقوطِ ڈھاکہ کے بعد اپنی عسکری کمزوریوں کو پہچانا، اپنے
اداروں کو مضبوط کیا، اور ایک ایسی فوج کھڑی کی جو دشمن کے کسی دباؤ کے سامنے
جھکنے والی نہیں۔
بھارت
اُس وقت بھی مخلص نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے۔ مکتی باہنی کے ہاتھوں بہاریوں پر
ہونے والی نسل کشی، شیخ مجیب کا انجام، اور پھر دہائیوں تک آمرانہ و کرپٹ لیڈروں کی
بھارتی سرپرستی— یہ سب اس حقیقت کی عکاس ہیں کہ بھارت مشرقی پاکستان کو “آزاد” نہیں،
صرف ایک کٹھ پتلی ریاست بنانا چاہتا تھا۔
لیکن
قدرت کی لاٹھی بڑی بے آواز ہے۔ سچ سامنے آ ہی جاتا ہے۔ آج سچائی کھل گئی ہے۔ آج
بنگلہ دیش کے عوام نے اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لے لی ہے— وہی مجسمے جو شیخ مجیب
کے نام پر کھڑے کیے گئے تھے، انہیں لوگوں نے خود جلا دیا۔ یہ وقت کی عدالت کا وہ فیصلہ
تھا جس نےسب کچھ صاف بیان کر دیتا ہے۔ اور اسی لمحے نے پاکستان اور بنگلہ دیش میں
50 سال سے ٹوٹے ہوئے رشتے کو ایک نیا رنگ دے دیا۔
بھارت زمین تو توڑ گیا لیکن نظریے کو نہ توڑ سکا۔
اکہتر(1971) میں دراڑیں بیانیے نے ڈالی تھیں — کیا اب وہی بیانیہ دوبارہ دہرایا جا رہا ہے ؟
اکہتر کی جنگ میں سب سے بڑا ہتھیار بندوق نہیں تھا، بلکہ ’بیانیہ‘ تھا۔"
جھوٹے اعداد، معاشی شکایتیں، لسانی اختلافات،
اور ایک مصنوعی احساسِ محرومی — یہ وہ زہر تھا جس نے مشرقی پاکستان کے دل میں دراڑ
ڈال دی اور قوم کو تقسیم کیا۔ آج بھارت وہی مذموم اور پرانی حکمتِ عملی بلوچستان
پر آزما رہا ہے، صرف نام تبدیل کیے گئے ہیں۔ مکتی باہنی کی جگہ بی ایل اے، بی ایل
ایف اور بی آر اے جیسے دہشت گرد گروہ رکھ دیے گئے ہیں، لیکن مقصد وہی ہے: پاکستان
کو اندر سے کمزور اور غیر مستحکم کرنا۔ یہ دہشت گرد گروہ اس بیانیے کو فروغ دے رہے
ہیں جو دراصل بھارت کی جانب سے دیا جاتا ہے۔
معاشی
استحصال کا جھوٹ اور بلوچستان کا بجٹ
دشمن کی جانب سے سب سے بڑا جھوٹ معاشی استحصال کا گھڑا
جاتا ہے، حالانکہ زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔ بلوچستان کا مجموعی بجٹ اس کی آبادی
کے تناسب سے کہیں زیادہ ہے، جو وفاق کی جانب سے صوبے کو دی جانے والی ترجیح کو
ظاہر کرتا ہے۔ مالی سال "2025-26ء" کے تخمینوں کے مطابق، بلوچستان کو
وفاقی حکومت سے قابل تقسیم محاصل اور براہِ راست منتقلی کی مد میں تقریباً
"801" ارب روپے سے زائد وصول ہونے کی توقع ہے، جبکہ صوبے کی اپنی
محصولات کا ہدف بمشکل "124" ارب روپے ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح طور پر
ثابت کرتے ہیں کہ وفاق بلوچستان کو اس کے قومی وسائل میں حصہ اور این ایف سی
ایوارڈ کے تحت اس کے حصے سے کہیں زیادہ وسائل فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ،
چین-پاکستان اقتصادی راہداری نے صوبے کے لیے ترقی کے وہ بے مثال مواقع کھولے ہیں،
جن سے خطے کے کئی ترقی پذیر علاقوں کی قسمت بدل سکتی ہے۔
لسانی
شناخت اور قومی یکجہتی پر جارحانہ حملہ
لسانی و ثقافتی اختلافات کو بھڑکانے کی کوشش بھی دشمن کی
پرانی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ وہ ہماری خوبصورت قومی یکجہتی کو توڑنا چاہتا ہے—جہاں
پنجابی، بلوچ، پشتون، سندھی، سرائیکی، گلگتی—سب اپنی شناخت کے ساتھ زندہ ہیں مگر
پاکستانیت کے ایک مضبوط جھنڈے تلے متحد ہیں۔ بھارت اس یکجہتی کو ناکام بنانے کے
لیے انتہائی جارحانہ انداز میں فرقہ واریت اور لسانی تفریق کو ہوا دینے کی سازشوں
میں مصروف ہے۔ یہ بیانیہ پاکستانی قوم کے درمیان صدیوں سے موجود بھائی چارے کو ختم
نہیں کر سکتا۔
بھارتی
میڈیا اور دہشت گرد گروہوں کی مصنوعی اہمیت
ان دہشت گردوں کو بیانیہ فراہم کرنے میں بھارتی میڈیا کا
کردار بھی ناقابلِ معافی اور بالکل وہی ہے جو "1971" میں تھا۔ جیسے اس
نے مکتی باہنی کو مصنوعی ہیرو بنا کر پیش کیا، آج وہی میڈیا بی ایل اے اور بی ایل
ایف کو جھوٹی اہمیت اور عالمی کوریج دے کر انہیں پروموٹ کر رہا ہے۔ وہ انہیں حقوق
کے لیے لڑنے والے بنا کر پیش کرتا ہے، جبکہ بلوچستان کے عوام ان دہشت گرد گروہوں
کو مکمل طور پر مسترد کر چکے ہیں جو ترقی اور امن کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔
"را" کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کا اعتراف ان تمام سازشوں کا کھلا ثبوت ہے،
اس
کہانی کا تازہ ترین ثبوت 2025 میں اُس وقت ملا جب پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ
شانہ بشانہ کھڑی تھی،
اور اسی اہم موڑ پر بی۔ایل۔اے اور بی۔ایل۔ایف کی بھارت
نوازی کھل کر سامنے آگئی۔
یہ الگ بات ہے کہ پاکستان کی عوام نے اپنی مسلح افواج کا
ساتھ دے کر
بھارت اور اس کے کرائے کے لٹیروں کے تمام ارادے خاک میں
ملا دیے۔
دسمبر:
دشمن نہیں بدلا، مگر ہم بدل چکے ہیں16
آزادی
کے بعد سے آج تک بھارت نے پاکستان کو عدم استحکام کی طرف دھکیلنے کی کوشش کبھی
نہیں چھوڑی۔ لیکن ہم وہ پاکستان نہیں جو 1971 میں تھا۔ آج پاکستان ایٹمی طاقت
ہے، ایک مضبوط فوج رکھتا ہے، ایک پختہ نظریہ رکھتا ہے، اور دشمن کی ہر سازش کا
جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ہم
نے دہشت گردی کے خلاف ضربِ عضب، ردّالفساد، راہِ نجات، راہِ حق جیسے بے مثال فوجی
آپریشن کیے۔ ہم نے دشمن کو 2019 میں آپریشن سِوِفٹ ریٹارٹ کے ذریعے دکھا دیا کہ
پاکستان کی خودداری پر ہاتھ ڈالنے کی قیمت کیا ہوتی ہے۔ اور 2025 میں آپریشن
بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ نے یہ ثابت کر دیا کہ بھارت کی “نئی حکمتِ عملی” بھی پرانی
طرح ناکام ہے۔ بلوچستان میں زہری، آواران، کیچ، دالبندین، سبی اور دیگر علاقوں میں
پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے جس طرح علیحدگی پسندوں کے نیٹ ورک توڑے، وہ اس قوم کی
بیداری کی علامت ہے۔
اب
جب 16 دسمبر کا دن آئے، تو یہ ٹوٹنے کی یاد نہیں، اٹھ کھڑے ہونے کے عزم کا دن
بنے— ایسا عزم جو کہتا ہے: ہم نے ماضی سے سیکھا ہے، ہم دشمن کی چالوں کو پہچانتے
ہیں، اور ہم پاکستان کو ایک مضبوط، محفوظ اور روشن مستقبل دینے کے لیے تیار ہیں۔
یہی
ہے یومِ عزمِ نو
پاکستان کے کل کو محفوظ بنانے کا عہد۔
Comments
Post a Comment